کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 161
صالح شخص کا گزر ہوا۔ اس نے دروازے پر دستک دی، ایک لڑکی باہر نکلی تو اس نے پوچھا: اس گھر کا مالک آزاد ہے یا کوئی غلام؟ لڑکی نے جواب دیا: آزاد ہے۔ اس نے کہا: تم سچ کہتی ہو۔ اگر وہ غلام ہوتا تو اپنے آقا کی غلامی اور بندگی کے آداب اختیار کرتا اور لہو و لعب ترک کردیتا۔ بشر نے ان دونوں کی گفتگو سن لی اور ننگے پاؤں اور ننگے سر فوراً دروازے کی طرف بھاگے مگر وہ شخص جاچکا تھا۔ بشر نے لڑکی سے پوچھا: دروازے پر تم سے کون باتیں کر رہا تھا؟ لڑکی نے ساری بات بتا دی تو انھوں نے پوچھا: وہ کس طرف گئے ہیں؟ لڑکی نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ادھر گئے ہیں۔ بشر اُسی طرف چل دیے حتی کہ ان کے پاس پہنچ گئے اور ان سے کہنے لگے: جناب آپ نے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر لڑکی سے باتیں کی تھیں۔ انھوں نے اثبات میں جواب دیا تو انھوں نے کہا: وہ ساری باتیں ایک بار پھر دہرایئے۔ انھوں نے اپنی باتیں دہرائیں تو بشر نے اپنے رخسار زمین پر رگڑنے شروع کر دیے اور کہا: نہیں، میں غلام ہوں، میں غلام ہوں، پھر انھوں نے ننگے سر اور ننگے پاؤں گھومنا شروع کردیا، اس وجہ سے وہ حافی، یعنیننگے پاؤں والے کے نام سے معروف ہوگئے۔ آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آپ جوتا کیوں نہیں پہن تے؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ میں نے جب اپنے آقا و مولا سے صلح کی تو میں اس وقت ننگے پاؤں تھا، لہٰذا میں نے عہد کیا ہے کہ ساری زندگی اسی حالت میں رہوں گا۔[1] [1] توبہ: مولانا محمد خالد سیف، ص: 156-154۔