کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 157
نے کہا: مومنوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑی تھیں۔ میں نے کہا: مجھے اصحاب النہر کے بارے میں بتائیے۔ کیا یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے بیعت توڑدی تھی اور اپنے امام سے بغاوت کی تھی؟[1] اس خواب سے معلوم ہوا جنگ صفین اور جنگ جمل میں دونوں جماعتیں ہی مسلمانوں کی تھیں اور دونوں کے مقتول شہداء ہیں۔ طارق بن زیاد کا خواب طارق بن زیاد فاتح ہسپانیہ ہیں۔ مشہور سپہ سالار ہیں۔ یہ ہسپانیہ پر حملہ آور ہونے سے پہلے مراکش و طنجہ کے والی تھے، انھوں نے طنجہ سے حملہ آور ہونے کے لیے سمندری سفر بھی کیا۔ اس سمندری سفر کے دوران میں طارق بن زیاد نے خواب میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار تلواریں لٹکائے ہوئے اور کمانیں کسے ہوئے کھڑے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’طارق! آگے بڑھو، مسلمانوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا اور عہد پورا کرنا۔‘‘ طارق نے یہ بھی دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اندلس میں داخل ہو رہے ہیں۔ بیدار ہوکر طارق نے یہ خواب ساتھیوں کو سنایا اور انھیں کامیابی کی خوشخبری دی۔[2] اللہ تعالیٰ نے طارق بن زیاد کو فتح دی تھی۔ جبل الطارق کے نام سے ایک قلعہ مشہور ہے، اُسے اب جبرالڑ کہا جاتا ہے۔ علامہ اقبال رحمہ اللہ نے طارق بن زیاد کی یاد میں میدان اندلس کے بارے میں ایک نظم کہی تھی جو بالِ جبریل میں ہے۔…ان سطور کے راقم نے یہ مقام دیکھا ہے۔ [1] تعبیر الرؤیا لابن قتیبہ، ص: 456۔ [2] اٹلس فتوحات اسلامیہ، تالیف احمد عادل کمال، ص: 451۔ (دار السلام)۔