کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 156
کردینا۔ کل ان شاء اللہ میں اپنے والد اور ماموں کے ساتھ جنت میں ہوں گا۔ میرے خون آلود کپڑے میری والدہ کے پاس لے جانا۔ انھیں کہنا تمھارا بچہ جنت میں چلا گیا ہے۔ میری چھوٹی سی بہن ہے، مجھ سے بہت پیار کرتی ہے، اُسے حوصلہ دلانا۔ والدہ کو بھی ملاقات کے وقت بتانا تمھارے بچے کا انجام بہت اچھا ہوا۔ وہ جنت میں خوشی کی زندگی بسر کررہا ہے۔ ابوقدامہ کہتے ہیں: میں اس کی والدہ محترمہ کو ملا اور اس کی بہن سے ملاقات کی۔ بہن تو چیخ مار کر بے ہوش گئی۔ والدہ نے اپنے بچے کے خون آلود کپڑے دیکھے تو خوش ہوگئی کہ میرا بچہ بھی جنت میں میرے خاوند اور میرے بھائی سے ملاقات کررہا ہے۔ ابوقدامہ کہتے ہیں: میں نے اس قدر زبردست جذبۂ جہاد سے سرشار نوجوان اور ایسی صابرہ خاتون آج تک نہیں دیکھی جو جہاد اور اپنے رب سے اتنی شدید محبت کرنے والی ہو۔[1] جنگ صفین اور جمل کے مقتولین خواب میں شرحبیل بن ابی میسرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا،گویا ایک فرشتہ آسمان کی طرف چڑھا۔ میں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا: میں ملک الموت، یعنی موت کا فرشتہ ہوں۔ پھر میں نے کہا: آپ مجھے اصحاب صفین کے بارے میں بتائیے۔ اس نے کہا: مسلمانوں کی دو جماعتیں تھیں جو آپس میں لڑ پڑیں۔ میں نے پھر عرض کی: مجھے اصحاب جمل کے بارے میں بتائیں۔ اس [1] سنہری کرنیں، ص: 345-331 کا خلاصہ، مولانا عبدالمالک مجاہد ۔