کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 154
بتایا میں نے وہ سب زیورات کشتی کے نچلے خانوں میں چھپا دیے ہیں۔ خلیفہ نے سپاہی بھیج کر وہ سارے زیورات منگوائے اور سپاہیوں کو حکم دیا کہ جس جگہ اس بدبخت ملاح نے عورت کو ڈبویا تھا وہیں اسے بھی پانی میں ڈبو کر ہلاک کر دیا جائے۔ سپاہیوں نے حکم کی تعمیل کی اور اسے پانی میں ڈبکیاں دے دے کر مار ڈالا۔ پھر خلیفہ نے اعلا ن کرایا کہ اس مقتول عورت کا جو بھی وارث ہے وہ آکر عورت کے زیورات لے جائے۔ یہ اعلان بغداد کے بازاروں میں مسلسل تین دن تک ہوتا رہا، تین دنوں کے بعد عورت کے زیورات اور لباس وغیرہ دے دیے گئے۔ پھر خلیفہ کے خادم نے پوچھا: امیر المومنین! آخر آپ کو اس راز کا پتہ کیسے چل گیا؟ خلیفہ نے کہا: خواب میں مجھے ایک شخص پکار کر کہہ رہا تھا: احمد! احمد! اس وقت سب سے پہلے جو ملاح کشتی لے کر آئے اس کو گرفتار کرلو اور اس سے اس عورت کے متعلق دریافت کرو جس کو اس نے آج قتل کرکے اس کا سارا سامان چھین لیا ہے۔ پھر اس پر حد جاری کرو۔ میں نے اسی خواب پر عمل کیا اور بعدازاں جو حقیقت سامنے آئی، وہ تم نے دیکھ ہی لی۔[1] شہید نوجوان کا خواب ابو قدامہ شام کے رہنے والے مسلمانوں کے لشکر کے سپہ سالار تھے۔ ان سے لوگوں نے کہا: آپ جہاد کے بہت سے معرکوں میں شریک رہے ہیں کوئی خوبصورت واقعہ سنائیں۔ انھوں نے جو واقعہ سنایا اس کا خلاصہ یہ ہے: صلیبی جنگیں اپنے عروج پر تھیں۔ مسلمان مجاہدین سر پر کفن باندھ کر دشمن کے مقابلے کے لیے نکلتے تھے۔ رقہ دریا ئے فرات، شام کے قریب ایک قصبہ ہے۔ میں وہاں ٹھہرا تو ایک عورت آئی۔ اس نے دروازے پر دستک دی اور ایک چھوٹی سی پوٹلی میرے حوالے [1] سنہری کرنیں، ص: 72-70، مولانا عبد المالک مجاہد ۔