کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 152
کہہ رہے تھے: رب کعبہ کی قسم! میرے حق میں فیصلہ کردیا گیا۔ پھر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی جلدی سے باہر آئے، وہ کہہ رہے تھے: رب کعبہ کی قسم! میرے رب نے مجھے معاف کردیا۔[1] اس خواب سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کو ہرگز زیبا نہیں کہ وہ ان دونوں شخصیات کے بارے میں اپنے دل میں کوئی شک رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔ عبد الملک بن مروان کا خواب ابراہیم بن سعید القرشی سے مروی ہے۔ اس نے کہا: عبد الملک بن مروان نے خواب میں دیکھا کہ ہشام بن اسماعیل کی لڑکی نے اس کا سر پھوڑ دیا تو اس کے 20 دانت ٹوٹ گئے۔ اسے اس سے پریشانی ہوئی۔ اس نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس خواب کا تذکرہ کیا تو سعید رحمہ اللہ نے کہا: اس لڑکی سے ایک لڑکا پیدا ہوگا جو بیس سال تک خلافت کرے گا، چنانچہ اس لڑکی نے ہشام کو جنم دیا۔[2] خلیفہ معتضد باللہ کا خواب علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ خلیفہ معتضد باللہ کے خادم خاص کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ خلیفہ معتضد باللہ ایک روز دوپہر کے وقت قیلولہ کررہے تھے اور ہم خدام اس کے پلنگ کے گرد تھے۔ یکایک خلیفہ گھبرایا اور بیدار ہوگیا۔ خلیفہ نے ہم سے کہا: تم لوگ جلدی سے دریائے دجلہ کی طرف جاؤ۔ وہاں جو پہلی کشتی آتی دکھائی دے گی، وہ خالی ہوگی اُسے وہیں روک دو۔ محفوظ جگہ پر لنگر انداز کردو اور اس کے ملاح کو پکڑ کر میری خدمت میں حاضر کرو۔ [1] تعبیر الرؤیا لابن قتیبہ، ص: 407۔ [2] تعبیر الرؤیا لابن قتیبۃ ملحق، ص: 396۔