کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 147
کریں۔‘‘ اور اشارہ احمد بن دُوَاد کے حلقے کی طرف کررہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے حلقہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیت کایہ اگلا حصہ پڑھا: ﴿ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ ﴾ ’’تو ہم نے ان کے لیے ایسے لوگ مقرر کیے ہیں جو کسی صورت ان کا انکار کرنے والے نہیں۔‘‘[1] امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں خواب یحییٰ بن ایوب مقدسی سے مروی ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شکل میں خواب میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کپڑا پڑا ہوا تھا جس سے آپ کا وجود مبارک ڈھکا ہوا تھا۔ اس موقع پر امام احمد بن حنبل اور امام یحییٰ بن معین مکھیاں اڑارہے تھے۔‘‘[2] ان دونوں آئمہ کرام نے حدیث کی بہت خدمت کی ہے۔ ضعیف اور موضوع احادیث کو صحیح احادیث سے چھانٹ چھانٹ کر الگ کیا ہے۔گویا ان دونوں حضرات کے بارے میں دیکھے گئے خواب کی یہی تعبیر تھی کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ضعیف اورموضوع روایات کی صاف نشاندہی کی۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پڑوسی کا خواب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ایک پڑوسی گناہوں میں مبتلا تھا اور بہت گندے کام کرتا تھا۔ ایک دن وہ امام احمد رحمہ اللہ کی مجلس میں آیا، سلام کیا اور بیٹھ گیا۔ امام صاحب نے صحیح طور پر اس کے سلام کا جواب بھی نہ دیا اور اس کے آنے کی وجہ سے گرانی محسوس کی۔ [1] الأنعام 89:6۔ البدایۃ والنھایۃ: 10؍342۔ [2] البدایۃ والنہایۃ: 10؍342۔