کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 146
اس نے کہا: میں نے بشر حافی کے بارے پوچھا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ انھوں نے جواب دیا: ارے واہ! بشر کی طرح کون ہے؟ میں نے اسے بزرگی والے رب کے سامنے چھوڑ دیا۔ اس کے سامنے کھانے کا دسترخوان تھا۔ رب جلیل اس کی طرف متوجہ ہوئے، وہ فرما رہے تھے: کھائے جس نے کھایا نہیں، اور پیے جس نے پیا نہیں۔ نعمت سے فائدہ اٹھا لے جس نے اٹھایا نہیں۔ یا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔[1] خواب میں قیامت کا دیکھنا اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ’’امام احمد بن خُرَّزاد انطاکی نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا گویا قیامت قائم ہوچکی ہے اور اللہ جل جلالہ فیصلہ کے لیے تشریف لائے ہیں۔ عرش کے نیچے آواز دینے والے نے آواز دی: ابوعبد اللہ کو داخل کرو! ابو عبداللہ کو داخل کرو! ابوعبداللہ کو داخل کرو! ابوعبداللہ کو داخل کرو! جنت میں۔ فرماتے ہیں: میں نے اپنے قریب کھڑے ہوئے ایک فرشتے سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ اس نے کہا: یہ حضرات امام مالک، امام ثوری، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ ہیں۔‘‘[2] خواب میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی مسجد میں موجودگی یحییٰ الجلاء سے مروی ہے کہ انھوں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کودیکھا کہ وہ جامع مسجد کے ایک حلقہ میں اور احمد بن دُوَاد دوسرے حلقہ میں موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں حلقوں کے درمیان تشریف فرما ہیں اور یہ آیت تلاوت کررہے ہیں: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَإِنْ يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلَاءِ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی، پھر اگر یہ لوگ ان باتوں کا انکار [1] البدایۃ والنھایۃ: 10؍342۔ [2] البدایۃ والنہایۃ: 10؍342۔