کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 145
ہوئے تو مجھے انتہائی شدید افسوس ہوا۔ میں نے انھیں خواب میں دیکھا کہ وہ اکڑ اکڑ کر چل رہے تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا: حضرت! یہ کیسی چال ہے؟ انھوں نے کہا: خدام دارالسلام (جنت) میں اسی طرح چلتے ہیں۔ (میں نے پھر پوچھا:) اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ انھوں نے کہا: اللہ رب العزت نے مجھے بخش دیا۔ عزت والا بنا دیا۔ اور مجھے سونے کے جوتے پہنائے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کہا: اے احمد! یہ تمھارے اس قول کا صلہ ہے جو تم کہتے تھے: اَلْقُرْآنُ کَلَامِي (قرآن میرا کلام ہے)، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے احمد! مجھے ان دعاؤں کے ساتھ یاد کرو جو تمھیں سفیان ثوری کی طرف سے پہنچی ہیں اور جنھیں پڑھ کر تم مجھ سے میرا فضل و کرم مانگتے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ! ہر چیز تیری قدرت کی وجہ سے ہے، تو ہر چیز کا رب ہے۔ تومیرے تمام گناہ بخش دے حتی کہ تو قیامت کے دن مجھ سے کسی چیز کے بارے میں کوئی مؤاخذہ نہ فرما۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: اے احمد! یہ جنت ہے۔ اٹھو اور اس میں داخل ہوجاؤ۔ میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں سفیان ثوری وہاں موجود ہیں۔ ان کے دو سبز پر ہیں، وہ ان پروں کے ذریعے ایک کھجور سے دوسری کھجور کی طرف اڑ رہے تھے اور یہ مقدس جملے پڑھ رہے تھے: ﴿ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ﴾ ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنادیا کہ ہم جنت میں سے جہاں چاہیں جگہ بنالیں، چنانچہ عمل کرنے والوں کا یہ اچھا اجر ہے۔‘‘[1] [1] الزمر 74:39۔