کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 144
کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ یا پھر لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے۔ وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔‘‘[1] ﴿ وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا ﴾ ’’اور جب انھوں نے صبر کیا تو ہم نے ان کے اندر ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔‘‘[2] امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں خواب سلمہ بن شبیب رحمہ اللہ کہتے تھے: ہم احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک بزرگ آئے۔ ان کے ساتھ ایک طاقتور غلام تھا۔ انھوں نے سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ پھر پوچھا: تم میں احمد بن حنبل کون ہیں؟ احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: میں ہوں، فرمایئے، آپ کیا چاہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: میں چار سو فرسخ کا سفر طے کر کے آیا ہوں، میں نے خضر علیہ السلام کو خواب میں دیکھا ہے۔ انھوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف سفر کرو۔ ان سے سوال کرو اور کہو: آپ نے اللہ عزوجل کے لیے صبر کیا تھا،اس لیے عرش کے مکین اور فرشتے آپ سے راضی ہیں۔[3] امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا فخر سے چلنا ابو عبداللہ محمد بن خزیمہ اسکندری بیان کرتے ہیں کہ جب احمد بن جنبل رحمہ اللہ فوت [1] الشوریٰ 50،49:42 ، سنہری کرنیں، مولانا عبد المالک مجاہد، ص: 26-25:22۔ [2] السجدۃ 24:32۔ [3] البدایۃ والنہایۃ: 10؍342۔