کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 142
زبیدہ کا کارواں جب لبنان پہنچا تو لوگوں نے پانی کی قلت کی شکایت کی۔ اس نے وہاں ایک نہر بنوائی اور پل تعمیر کرائے جو آج بھی قناطیر زبیدہ کے نام سے مشہور ہیں۔ جب یہ حج کرنے کے لیے مکہ مکرمہ گئیں تو معلوم ہوا یہاں پانی کی بڑی قلت ہے۔ پانی کا ایک مشکیزہ ایک اشرفی میں ملتا تھا۔ اس نے نہر بنانے کا حکم دیا۔ مکہ کی سنگلاخ زمین کو ہموار کیا، نہر نکالی جس پر ایک کروڑ روپیہ خرچ ہواجو آج بھی نہر زبیدہ کے نام سے مشہور ہے۔ تاریخ بغداد میں خطیب بغدادی نے ایک محدث کا خواب بیان کیا ہے کہ انھوں نے خواب میں زبیدہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟زبیدہ نے جواب دیا: نہر کی کھدائی کے سلسلہ میں جب پہلی کدال سرزمین مکہ میں پڑی اسی وقت میری مغفرت کردی گئی۔[1] بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں تاریخ میں ایک دلچسپ قصہ ملتا ہے، وہ درج ذیل ہے: ایک شخص کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں۔ ہر مرتبہ اس کو امید ہوتی کہ اب تو یقینا بیٹا پیدا ہوگا مگر ہر بار بیٹی ہی پیدا ہوتی۔ اس طرح اس کے ہاں یکے بعد دیگرے چھ بیٹیاں ہوگئیں۔ اس کی بیوی کے ہاں پھر ولادت متوقع تھی۔ وہ ڈر رہا تھا مبادا پھر لڑکی پیدا ہوجائے۔ شیطان نے اس کو بہکایا، چنانچہ اس نے ارادہ کرلیا کہ اگر اب بھی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا۔ اس کی کج فہمی پر غور فرمایئے! بھلا بیٹیاں پیدا ہونے میں بیوی کا کیا قصور؟ رات کو [1] اسلام کی بیٹیاں، مولانا محمد اسحاق بھٹی، ص: 454۔