کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 141
کردی ہے۔‘‘ جب محمد کی والدہ نیند سے بیدار ہوئیں تو دیکھا کہ واقعی اُن کے بیٹے کی بینائی بحال ہوچکی ہے، تو ان کی زبان سے اللہ رب العزت کے شکرانے کے لیے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے: ﴿أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللّٰهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ ﴾ ’’بھلا کون بے قرار کی التجا قبول فرماتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمھیں زمین کاخلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟ (ہرگز نہیں مگر)تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔‘‘[1] یہ عظیم خاتون جو مسلسل دعائیں مانگتی رہیں امام المحدثین محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کی والدہ محترمہ تھیں۔ انھوں نے بیٹے کی بینائی لوٹ آنے کے بعد اس کی تعلیم و تربیت اس قدر محنت سے کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے پر علم و عرفان کے دروازے کھول دیے اور پھر آگے چل کر یہ بچہ ایک بہت بڑا محدث بنا اور اس نے کتاب اللہ کے بعد دنیا کی صحیح ترین کتاب مرتب کی جو ’’صحیح البخاری‘‘ کے نام سے ساری دنیا میں مشہور ہے اور اس بچے کو لوگ امام بخاری رحمہ اللہ کے نام سے جانتے ہیں۔ اُن کا پورا نام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ ہے۔[2] زبیدہ بنت جعفر کے بارے میں خواب زبیدہ مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی تھی۔ وہ بے شمار خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ یہ حج کے لیے گئیں تو انھوں نے بہت سی مساجد اور سرائیں تعمیر کرائیں اور پل بنوائے۔ [1] النمل 62:27۔ [2] سنہری کرنیں، ص: 215-214، مولانا عبد المالک مجاہد (طبع جدید)۔