کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 138
دیکھا۔ کافروں نے وہ خواب سنا تو خوب ہنسی اڑائی کہ اب تو بنو ہاشم کی لڑکیاں بھی نبوت کے درجے میں آنے لگی ہیں۔ لیکن نتیجہ وہی نکلا جو انھیں خواب میں دکھایا گیا تھا۔ خواب یہ تھاکہ ایک سوار ہے، اُس نے کوہ بوقبیس سے ایک پتھر اُٹھایا ہے اور رکن کعبہ پر دے مارا ہے۔ وہ پتھر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ پتھر کے یہ ذرے قریش کے ہر گھر میں جا گرے۔ صرف بنو زہرہ بچے رہے۔[1] ابوعبید کی بیوی کا سچا خواب دومہ ابوعبید ثقفی کی بیوی تھی۔ اس نے خواب دیکھا کہ ایک آدمی آسمان سے اترا۔ اس کے ہاتھ میں پانی سے بھرا ہوا ایک برتن تھا۔ ابوعبید، اس کے بیٹے اور چند اہل خاندان نے اس برتن سے پانی پیا۔ دومہ نے ابوعبید کو اس خواب سے آگاہ کیا۔ ابوعبید نے فرمایا: یہ ہماری شہادت کی خبر ہے۔ ابوعبید نے لوگوں سے کہا: اگر میں شہید ہوجاؤں تو اسلامی فوج کا فلاں آدمی قائد ہوگا۔ پھر علی الترتیب بنو ثقیف کے ان سات افراد کے نام لیے جن کا ان کی بیوی نے تذکرہ کیا تھا۔ انھوں نے وصیت فرمائی کہ اگر میرے بعد یہسب شہید ہوجائیں تو مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اسلامی فوج کا کمانڈر بنادیا جائے۔[2] ام عاصم انتہائی خوش نصیب ماں ام عاصم اپنے دور کی سب سے بڑھ کر بلند اخلاق اورمعزز خاتون تھیں۔ آپ کی والدہ ام عمارہ ثقفیہ تھیں جنھیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہو بنایا تھا، شادی کے بعد ان کے بطن سے عمر بن عبد العزیز جیسا بلند بخت اور نیک دل بچہ پیدا ہوا جو بڑا ہوکر امیر المومنین [1] رحمۃ للعالمین: 2؍89۔ [2] حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات، مولانا عبد المالک مجاہد، ص: 307۔