کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 137
لگا؟ انھوں نے بتایا کہ میں نے اپنے خاوند سے کہا : میں نے خواب دیکھا ہے کہ چاند میری گود میں آگرا ہے۔ اُس نے یہ سنتے ہی مجھے تھپڑ مارا اور کہا کہ تو یثرب کے بادشاہ کی آرزومند ہے یا اس نے یوں کہا: اللہ کی قسم! تیرے دل میں یثرب کے بادشاہ کی تمنا سمائی ہوئی ہے۔[1] ام الفضل رضی اللہ عنہا کا خواب قابوس بن مخارق بیان کرتے ہیں کہ اُمُّ الفضل رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ کے مبارک اعضاء میں سے ایک عُضومبارک میرے گھر میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو نے اچھی چیز دیکھی ہے۔ اس کی تعبیر یہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا اور تو اسے دودھ پلائے گی۔‘‘ چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سیدناحسن یا سیدنا حسین پیدا ہوئے تو انھیں ام الفضل رضی اللہ عنہا نے دودھ پلایا، پھر وہ انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور اُنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھایا، انھوں نے پیشاب کردیا۔ میں نے صاحبزادے کے کاندھے پر ضرب لگائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تجھ پر رحم فرمائے تو نے میرے بیٹے کو تکلیف پہنچائی ہے۔‘‘[2] اسحدیث سے معلوم ہوا کہ جسم کے کسی عضو کا دیکھنا بچے سے تشبیہ ہے کیونکہ وہ جسم کا حصہ ہوتا ہے۔ عاتکہ عمۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔انھوں نے جنگ بدر سے چند روز پہلے ایک خواب [1] خواتین اہل بیت، احمد خلیل جمعہ ، ص: 422-421۔ [2] سنن ابن ماجہ، حدیث: 3923۔