کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 135
تین چاند سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔ واقعی ان کے حجرے میں کائنات میں بسنے والے تین بہترین انسان سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ دفن کیے گئے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خوابوں کی تعبیر بتانے کی خصوصی مہارت حاصل تھی۔ وہ اس معاملے میں بھی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں ممتاز درجہ رکھتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: میری بیٹی! خود تم نے اس خواب کی تعبیر کیاکی ہے؟ انھوں نے عرض کیا: ’أَوَّلْتُہَا وَلَدًا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم ‘ ’’میں نے اپنے طورپر یہ تعبیر کی ہے کہ میرے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اولاد پیدا ہوگی۔ یہ سُن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے۔‘‘[1] سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا خواب سیدہ اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔ ان کا پہلا نکاح عبید اللہ بن جحش سے ہوا۔ یہ دونوں ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے۔ کچھ عرصہ بعد ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خواب میں اپنے خاوند کو دیکھا کہ وہ نہایت مکروہ اور بد شکل حالت میں ہے۔ وہ اس خواب سے پریشان ہوئیں۔ اور اپنا خواب عبید اللہ بن جحش کو سنایا، اُس نے اس خواب پر کوئی توجہ نہ دی۔ بعدازاں وہ مرتد ہو کر نصرانی ہوگیا اور کثرت سے شراب پینے لگا۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اُسے اس مذموم فعل سے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہ رکا۔علامہ طبری رحمہ اللہ ان کے خاوند کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ان کے خاوند نے نصرانیت قبول کرلی۔اس نے بہت کوشش کی کہ اس کی بیوی [1] الطبقات لابن سعد: 2؍294۔