کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 133
کے اوصاف و کمالات اور حالات پوچھنے لگیں۔ ورقہ بن نوفل نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے تورات وانجیل میں درج شدہ تمام اوصاف بیان کر دیے۔ بعدازاں جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تجارت کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شام بھیجا تو اپنے غلام میسرہ سے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال معلوم کیے۔ جب میسرہ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان کردار اور معجزوں کے حالات بتائے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت خوش ہوئیں۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت میں وہ تمام آثارِ کمال دیکھ لیے جن کی اطلاع ورقہ بن نوفل نے دی تھی، پھر انھوں نے دیر نہیں لگائی۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فوراً نکاح کا پیغام بھیج دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیغام بہت خوشی سے قبول فرمالیا اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی ہوگئی۔ یوں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مبارک خواب کی تعبیر عملاً متشکل ہوکر نُورفشاں ہوگئی۔ اسی لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا ہوئی تو انھوں نے فوراً پہچان لیا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انھوں نے تسلی کے جو کلمات کہے وہ صحیح بخاری میں موجود ہیں۔[1] سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا خواب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سکران بن عمرو رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ ایک رات انھوں نے خواب دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے ہیں اور آپ نے آتے ہی ان کی گردن پکڑلی۔ انھوں نے اپنا یہ خواب اپنے خاوند کو بتایا توانھوں نے سن کر کہا: اگر تو نے سچ مچ یہی خواب دیکھا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ میں مر جاؤں گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمھاری شادی ہوگی۔ پھر انھوں نے دوسری رات یہ خواب دیکھا کہ وہ لیٹی ہوئی ہیں اور چاند ان پر گر کر ٹوٹ [1] خواتین اہل بیت، احمد خلیل جمعہ، ص: 28۔