کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 128
تعلقات توڑ لیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر آپ ہی کے ہوکر رہنے لگے۔[1] حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں خواب حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک روایت ہے کہ وہ عہد رسالت کے اواخر میں وفات پا گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں ہوں۔ وہاں میں نے ایک پڑھنے والے کی آواز سنی، وہ کچھ پڑھ رہا تھا۔ میں نے پوچھا: ’’یہ کون ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: یہ حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ (میں نے کہا:) ’’حسن سلوک کی یہی جزا ہوتی ہے۔ حسن سلوک کی جزا ایسی ہی ہوتی ہے۔ حارثہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے ساتھ سب سے بڑھ کر حسن سلوک کرنے والے تھے۔‘‘[2] عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں خواب ابن اثیر نے عبد اللہ بن ابی سفیان کا یہ بیان نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کو ان کی شہادت کے بعد خواب میں نہایت اچھی حالت میں دیکھا۔ میں نے پوچھا: کیا آپ شہید نہیں ہوئے؟ انھوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، میں اپنے رب سے ملا ہوں۔ اس نے مجھے جنت میں داخل کردیا ہے اور میں جنت کے میووں میں سے جو چاہتا ہوں کھاتا ہوں۔ میں نے پوچھا: آپ کے ساتھیوں کے ساتھ کیا معاملہ رہا؟ انھوں نے جواب دیا: وہ میرے ساتھ میرے جھنڈے کے گرد ہیں ان کی گرہ قیامت تک نہ کھلے گی۔ اس کے بعد میں بیدار ہوگیا۔[3] [1] نقوش رسول صلی اللہ علیہ وسلم نمبر: 7؍151۔ [2] شرح السنۃ: 7؍13، وشعب الإیمان للبیھقي: 7851۔ [3] أسد الغابۃ: 2؍582۔