کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 127
میں ہوں اور ڈوبنے لگا ہوں مگر آپ نے مجھے وہاں سے نکال لیا ہے۔ اس کے بعد وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ سارا ماجرا سنایا اور حلفیہ کہا کہ میں کوئی رقم چھپانی نہیں چاہتا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے کچھ بھی واپس نہیں لوں گا بلکہ میں یہ تمام رقم تم کو ہبہ کرتا ہوں۔[1] سیدنا خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کا خواب سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا گیاہے کہ آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام لائے تھے۔ بعض روایات کے مطابق تیسرے، چوتھے یا پانچویں نمبر پرمسلمان ہوئے تھے۔ آپ کے اسلام لانے کا واقعہ یہ ہے: آپ نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ وہ آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے ہیں، آپ کا باپ آپ کو آگ میں دھکا دے رہا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو کندھوں سے پکڑ کر پیچھے کھینچ رہے ہیں۔ آپ نے یہ خواب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سُنایا تو انھوں نے انھیں اسلام قبول کر لینے کا مشورہ دیا۔ آپ مقام اجیاد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کرلیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے اسلام کو مخفی رکھا۔ جب آپ کے والد کو اس بات کا علم ہوا تو سخت ناراض ہوا، اُس نے آپ کو مارا پیٹا، گالیاں دیں اور آپ کے بھائیوں کو حکم دیا کہ ان سے مطلق بات چیت نہ کریں۔ ورنہ میں تم سے بھی وہی سلوک کروں گا جو اس کے ساتھ کیا۔ پھر آپ کو قید کردیا گیا اور آپ پر بڑی سختی کی گئی۔ آپ کو بھوکا اور پیاسا رکھا گیا حتی کہ مکہ جیسے گرم علاقے میں تین دن تک آپ کو کھانے کے لیے کچھ نہیں دیا۔ آخر کار انھوں نے اپنے والد سے اپنے تمام [1] نقوش رسول صلی اللہ علیہ وسلم نمبر:8؍ 201،200۔