کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 126
ہی رہے ہو کہ خلافت تو مجھے مل گئی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت گر کی پروا نہیں کرتا تو مجھے امید ہے کہ لوگوں کا میرے بارے میں یہی گمان ہوگا۔ شہادت کے بارے میں سوچتا ہوں کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ میں تو جزیرۂ عرب میں رہتا ہوں۔[1] سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا خواب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں۔ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے ایک علاقے کا حاکم بنا کر بھیجا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا: ((أَعْلَمُہُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ)) ’’حلال و حرام کے جاننے کے سب سے زیادہ عالم معاذ بن جبل ہیں۔‘‘[2] نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یہ واپس آئے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: ان سے وہ روپیہ واپس لے لینا چاہیے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بیت المال سے دیا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو ان سے وہ روپے نہیں مانگوں گا، ہاں! وہ خود واپس کر دیں تو ٹھیک ہے۔ یہ بات انھی کی مرضی پر موقوف ہے کیونکہ مال ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو علیحدگی میں کہا: وہ رقم واپس کردیجیے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ رقم تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری مالی حالت سدھارنے کے لیے دی تھی۔ بھلامیں کیوں واپس کروں؟ بعدازاں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملے اورعرض کرنے لگے: میں آپ کی بات ماننے کے لیے تیار ہوں کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں پانی کے گڑھے [1] سیرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، از ڈاکٹر علی محمدصلابی:2؍ 578،577۔ [2] صحیح ابن حبان: 7131۔