کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 124
میں پیش کیے گئے تو انھوں نے فرمایا: انھیں بیت المال میں جمع کرادو اور فوراً واپس چلے جاؤ۔ سائب نے ایسا ہی کیا اور واپس چل دیے۔ ان کے جانے کے چند روز بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سائب کو واپس بلانے کے لیے ان کے پیچھے ایک آدمی روانہ کیا۔ وہ سائب سے کوفہ میں جا ملا۔ وہ انھیں ساتھ لے کر واپس آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کردیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سائب کو دیکھا تو فرمایا: سائب ! بات یہ ہے کہ تمھارے جانے کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ فرشتے مجھے ٹوکروں کی طرف کھینچ کر لارہے ہیں اور یہ دونوں ٹوکرے آگ بن کر بھڑک رہے ہیں۔ وہ مجھے ان جواہرات کو فورًا تقسیم نہ کرنے کی پاداش میں آگ سے داغنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ یہ ٹوکرے تم لے جاؤ اور مسلمانوں کو دیے جانے والے وظائف میں خرچ کردو۔ اس مقصد کے لیے انھیں کوفہ میں فروخت کردینا۔[1] وفاتِ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے متعلق سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا خواب سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بہت سے راستے دیکھ رہا ہوں۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب راستے ختم ہوگئے، صرف ایک راستہ باقی رہ گیا۔ میں اس پر چل پڑا، ایک پہاڑ پر پہنچا۔ اس پہاڑ پر پھسلن تھی۔ اچانک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اشارے سے بُلارہے تھے۔ میں نے عرض کیا: آپ عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر پیغام کیوں نہیں بھیج دیتے؟ انھوں نے کہا:’مَا کُنْتُ لِأَنعٰی لَہٗ نَفْسَہٗ‘ ’’میں انھیں ان کی موت کی خبر نہیں دے سکتا۔‘‘[2] [1] سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات، از مولانا عبد المالک مجاہد، ص: 264۔ [2] سیرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، ڈاکٹر علی محمد الصلابی: 2؍579۔ مطبوعہ (دارالسلام)۔