کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 122
اپنی عزیمت، حسنِ عمل اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے عملی طور پر یہ کام شروع کردیا اور اس اچھے خواب سے نیک شگون لیا۔ کعب احبار کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خواب کے بارے پوچھنا ایک مرتبہ کعب احبار، جو پہلے یہودی عالم تھے اور بعد میں مسلمان ہوگئے تھے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھنے لگے: کیا آپ نے خواب میں کچھ دیکھا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسکرا دیے اور اس سوال کا سبب دریافت کیا۔ کعب احبار کہنے لگے: ہماری کتابوں میں ذکر ہے کہ اس اُمت میں ایک ایسا شخص ہوگا جسے خوابوں کے ذریعے اُمت کے معاملات کے لیے رہنمائی فراہم کی جائے گی۔[1] سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خواب میں بچھڑے ذبح ہوتے دیکھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے جب بھی کوئی جملہ نکلتا کہ میرا گمان اس طرح ہے تو وہ گمان سچ ثابت ہوجاتا۔ آپ کے دورِ خلافت کا واقعہ ہے کہ ایک غیر معمولی شکل و شباہت کا آدمی آپ کے قریب سے گزرا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر فرمایا: میرے خیال میں یہ شخص دور جاہلیت میں کاہن تھا۔ اسے میرے پاس لاؤ۔ جب اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس سے اپنے خیال کی تصدیق چاہی۔ وہ کہنے لگا: میں نے آج تک ایسا کوئی معاملہ نہیں دیکھا جو کسی مسلمان کو پیش آیا ہو (یہ کہہ کر اس نے بات چھپالی، واضح نہیں کی۔) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: مجھے صحیح صحیح بات بتاؤ۔ وہ کہنے لگا: میں زمانۂ جاہلیت میں کاہن تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں کوئی عجیب [1] سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات از مولانا عبد المالک مجاہد، ص: 305۔