کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 121
((نَعَمْ قَدْ حَدَّثَتْ نَفْسِي بِذٰلِکَ وَمَا أَطْلَعْتُ عَلَیْہِ أَحَدًا، وَّمَا سَأَلْتَنِي عَنْہُ إِلَّا بِشَيْئٍ)) ’’ہاں! میرے دل میں یہ پروگرام موجود ہے لیکن میں نے اس بارے میں کبھی کسی کو کچھ نہیں بتایا، البتہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس بارے میں ضرور کسی خاص وجہ سے سوال کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے عرض کیا: جی ہاں، خلیفۃ الرسول! میں نے خواب دیکھا ہے کہ ہم لوگ آپ کی قیادت میں شام کی طرف لشکر کشی کررہے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ((نَامَتْ عَیْنَاکَ، خَیْرًا رَأَیْتَ، وَخَیْرًا یَکُونُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ)) ’’تمھاری آنکھیں پرسکون رہیں، تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے اور یہ بہت بہتر ہوگا ان شاء اللہ۔‘‘[1] یہ نیک خواب ان خوشخبریوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ((لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ، قَالُوا: وَ مَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: الرُّؤیَا الصَّالِحَۃَ)) ’’نبوت میں سے صرف خوشخبریاں باقی رہ گئی ہیں۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا: خوشخبریاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اچھے خواب۔‘‘[2] یہ خواب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ارادے کو عملی شکل دینے کے لیے مہمیز کا باعث بنا، لہٰذا انھوں نے شام کی جنگ کے لیے خصوصی مجلس مشاورت منعقد کی۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے [1] تاریخ دمشق لابن عساکر:2؍ 62،61۔ [2] صحیح البخاري، حدیث: 6995۔