کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 120
میں بتاسکتا ہوں کہ جس نبی کا انتظار ہے، وہ عربوں میں بہترین نسب کا حامل ہوگا۔ میں نے پوچھا: وہ نبی کیا کہے گا؟ انھوں نے جواب دیا کہ وہ جو بات کہے گا، وحی کے مطابق ہی کہے گا۔ انھوں نے مزید کہا:ہاں! یہ بتادوں کہ وہ ظلم کرے گا نہ اس پر ظلم ہوسکے گا۔ نہ وہ کسی ظالمانہ کارروائی میں شرکت کرے گا۔ پھر جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام میں اپنے قیام کے دوران ایک خواب دیکھا اور بحیرا راہب کو سنایا۔ بحیرا نے پوچھا: آپ کس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں؟ میں نے جواب دیا: سرزمین مکہ سے۔ وہ پوچھنے لگا کہ آپ کا تعلق کس قبیلے سے ہے؟ جواب دیا: قریش سے۔ اُس نے پیشے کا پوچھا تو انھوں نے جواب دیا: تجارت۔ یہ سن کر بحیرا نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کا خواب سچ کر دکھایا تو آپ کی قوم سے ایک نبی کی بعثت ہوگی جس کی زندگی میں آپ اس کے وزیر اور اس کی وفات کے بعد اس کے خلیفہ ہوں گے۔ آپ نے یہ بات دل میں چھپالی اور اس کا ذکر کبھی کسی سے نہ کیا۔[1] شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کا خواب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فتح شام کے بارے میں سوچ بچار کرتے رہتے تھے۔ اسی اثنا میں مرتدین کے خلاف جنگ میں شریک ایک کمانڈر سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’خلیفۃ المسلمین! کیا آپ کے دل میں شام کی طرف لشکر روانہ کرنے کا کوئی پروگرام ہے؟آپ نے فرمایا: [1] سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات از مولانا عبد المالک مجاہد، ص: 43،42۔