کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 118
مسئلے سے زیادہ پیچیدہ کوئی مسئلہ نہیں چھوڑوں گا۔ جس قدر میں نے اس مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مراجعت کی تھی کسی دوسرے مسئلے میں نہیں کی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر اس مسئلے میں مجھ پر سختی کی دوسرے کسی مسئلے پرایسی سختی نہیں کی۔ حتی کہ آپ نے میرے سینے میں اپنی اُنگشت مبارک مارتے ہوئے فرمایا: ’’عمر! کیا تجھے سورۂ نساء کی آخری آیت جو موسمِ گرما میں اتری تھی کافی نہیں؟‘‘ اگر میں زندہ رہا تو اس مسئلے کو اس طرح حل کروں گا کہ اس کے مطابق فیصلہ کرنا، قرآن خواں اور ان پڑھ سب کے لیے آسان ہوجائے گا۔ پھر فرمایا: ’’اے اللہ! میں حکام کے متعلق تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے، دین سکھانے، سنت نبوی کی تعلیم دینے اور ان میں مالِ غنیمت تقسیم کرنے کے لیے بھیجا ہے اور اُن کو تاکید کی ہے کہ جس بات کا فیصلہ ان کے لیے مشکل ہو، وہ میری طرف لکھ بھیجیں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اے لوگو! تم دو سبزیاں،پیاز اور لہسن کھاتے ہو، میں ان کوبدبودارسمجھتا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے، جب کسی کے منہ سے ان کی بُو آتی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسجد سے نکال کر بقیع کی طرف بھیج دیتے تھے۔ جو شخص پیاز اور لہسن کھانا چاہے، وہ پکا کر کھائے۔‘‘ [1] سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا خواب جب باغیوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا، ان پر ہر چیز کی پابندی لگا دی۔ اس محاصرے کے آخری دن جب آپ رضی اللہ عنہ شہید کردیے گئے، اسی روز آپ صبح بیدار ہوئے تو آپ نے بتادیا کہ سبائی لوگ مجھے شہید کردیں گے۔ پھر فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدناابوبکراور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما [1] صحیح مسلم، حدیث: 567۔