کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 117
انھوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان دونوں کے درجات میں تو آسمان و زمین کے مابین فاصلے سے بھی زیادہ فرق ہے ۔‘‘[1] خواب میں جو کچھ دیکھا تھا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے حقیقت پر محمول کیا اور اس کی تعبیر اور کچھ نہیں سمجھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کے اس فہم کی تائید فرمائی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لمبی زندگی اچھی ہے بشرطیکہ اس میں نیکیاں کی جائیں۔ طویل عرصہ نماز روزے کا ثواب شہادت سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ شہید کو مزیدکچھ مخصوص انعامات حاصل ہوتے ہیں جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں ہوتے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خواب صحیح مسلم میں معدان بن ابوطلحہ سے روایت ہے کہ ایک دن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جمعہ کا خطبہ دیا۔ اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ’’میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ مجھے مرغ نے تین ٹھونگے مارے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت قریب ہے۔ کچھ لوگ مجھے خلیفہ نامزد کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنی خلافت کو ضائع نہیں کرے گا اور نہ اس مقصد کو ناکام کرے گا جس کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیجا۔ اگر مجھے موقع نہ ملا تو خلافت کے بارے میں ایسے اچھے اچھے آدمی باہمی مشورے سے فیصلہ کریں جن سے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اِس دنیا سے خوش خوش گئے تھے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس پر وہ افراد اعتراض کریں گے جن کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے میں نے اپنے ہاتھوں سے مارا ہے۔ اگر وہ ایسا کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کے دشمن، نافرمان اور گمراہ ہیں۔ میں اپنے پیچھے کلالہ کے [1] سنن ابن ماجہ، حدیث: 3925۔