کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 115
کھانے کے لیے دو۔نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ یہ ایک فتنہ ہے جو آخر زمانے میں ظاہر ہوگا۔ زرارہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یہ کیسا فتنہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگ اپنے امام کو قتل کردیں گے، آپس میں پھوٹ پڑجائے گی۔ لوگ ایک دوسرے سے ایسے گتھ جائیں گے جیسے ہاتھوں کی انگلیاں پنجہ ڈالنے میں گتھ جاتی ہیں۔ بدکار ان دنوں اپنے آپ کو نیکو کار سمجھے گا۔ مومن کا خون پانی سے بڑھ کر خوش گوار سمجھا جائے گا۔ اگر تیرا بیٹا مر گیا تب تو اس فتنے کو دیکھ لے گا اور تو مر گیا تو تیرا بیٹا دیکھ لے گا۔‘‘ زرارہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دعا کیجیے کہ میں اس فتنے کو نہ دیکھوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ’’الٰہی! یہ اس فتنے کو نہ پائے۔‘‘ چنانچہ زرارہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا۔ اور ان کا بیٹا زندہ رہ گیا، آگے چل کر اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت توڑ ڈالی۔[1] آگ کو فتنے سے تعبیر کیا گیا اس لیے کہ فتنہ آگ کی طرح جلدی پھیلتا ہے، لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ قرآن پاک میں ارشادہے: ﴿ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ﴾ ’’اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سخت ہے۔‘‘[2] سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا خواب میں دو آدمیوں کو دیکھنا ’’سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: قبیلہ بَلیّ کے دو آدمی ہجرت کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ آئے۔ وہ دونوں اکٹھے مسلمان ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت (نیکی کے کاموں میں) زیادہ [1] زاد المعاد لابن القیم: 3؍687۔ [2] البقرۃ 191:2۔