کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 107
کیا، اسے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جاری رکھا اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس چشمے سے حوض لبالب بھر لیا، لوگ دور دور سے سیراب ہونے کے لیے آتے تھے۔ جھوٹا خواب بیان کرنے کی وعید سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ تَحَلَّمَ کَاذِبًا کُلِّفَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَنْ یَّعْقِدَ بَیْنَ شَعِیرَتَیْنِ وَ لَنْ یَعْقِدَ بَیْنَہُمَا)) ’’جس نے جھوٹا خواب بیان کیا اُس سے کہا جائے گا کہ جَو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے اور وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکے گا۔‘‘[1] اس حدیث میں جھوٹا خواب بیان کرنے والے کی مذمت اور سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ جب ایک آدمی جھوٹے خواب بیان کرتا ہے تو بیداری کی حالت میں وہ کتنا جھوٹ بولتا ہوگا۔ نیز حدیث میں سچے خواب کو نبوت کا جز قراردیا گیا ہے۔ جھوٹا آدمی اپنے جھوٹ کے ذریعے درحقیقت یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا خواب دکھایا ہے، حالانکہ اس نے یہ خواب دیکھا ہی نہیں۔ گویا وہ آدمی نبوت اور وحی کا انکار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔[2] علامہ نابلسی رحمہ اللہ نے تعطیر الأنام میں کہا ہے کہ جھوٹا خواب بیان کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ خواب نبوت کا جز ہے۔ جو شخص کسی چیز کے ایک جُز کا دعویٰ کرتا ہے، وہ گویا کل کا دعویٰ کرنے والے کی طرح ہے۔[3] [1] جامع الترمذي، حدیث: 2385۔ [2] تحفۃ الأحوذي:6؍ 464،463۔ [3] تعطیر الأنام لنابلسی، ص: 17۔