کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 106
مذاق کی باتوں کا ہدف بن جائے گا، لہٰذا برا خواب بیان ہی نہیں کرنا چاہیے۔ خواب میں آرام کرنا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُ أَنِّي عَلٰی حَوْضٍ أَسْقِي النَّاسَ فَأَتَانِي أَبُوبَکْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ یَدِيْ لِیُرِیحَنِي فَنَزَعَ ذَنُوبَیْنِ وَ فِي نَزْعِہٖ ضَعْفٌ وَاللّٰہُ یَغْفِرُ لَہُ، فَأَتَی ابْنُ الْخَطَّابِ، فَأَخَذَ مِنْہُ فَلَمْ یَزَلْ یَنْزِعُ حَتّٰی تَوَلَّی النَّاسُ وَالْحَوْضُ یَتَفَجَّرُ)) ’’میں سویا ہوا تھا، میں نے خواب دیکھا کہ میں حوض پر ہوں اورلوگوں کو سیراب کررہا ہوں، پھر میرے پاس ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور مجھے آرام دینے کی خاطر ڈول میرے ہاتھ سے لے لیا، پھر انھوں نے دو ڈول کھینچے۔ ان کے کھینچنے میں کمزوری عیاں تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے اور ان سے ڈول لے لیا،وہمسلسل ڈول کھینچتے رہے یہاں تک کہ لوگ سیراب ہوکر چل دیے اور لبالب حوض سے پانی اُچھلتا رہا۔‘‘[1] اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا اور دنیا سے رخصت ہوگئے۔ بعدازاں خلافت کی ذمہ داری سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سونپ دی گئی۔ یہ خلافت کم و بیش دو سال تک رہی، اس دوران مختلف فتنے سر اٹھاتے رہے، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلافت پر متمکن ہوئے۔ ان کی خلافت کا زمانہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد سے زیادہ تھا۔ انھوں نے تمام فتنوں کو دبا دیا اور اسلام دور دور تک پھیلایا۔ جس چشمۂ فیض کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری [1] صحیح البخاري، حدیث: 7022۔