کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 105
’’تم میں سے خواب کس نے دیکھا ہے؟ ایک آدمی نے عرض کیا: میں نے یہ خواب دیکھا ہے کہ گویا آسمان سے ایک ترازو اُتری ہے اور اس میں آپ کا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھاری تھے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ بھاری تھے۔ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کا وزن کیا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ بھاری نکلے، پھر وہ ترازو اُٹھا لی گئی۔ (اس بات پر) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ اقدس پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔‘‘[1] خواب میں وزن کیا جانا ایک تمثیل تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کائنات میں سب سے افضل اور سب پر بھاری ہیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں افضل درجہ سیدنا ابوبکر، پھر سیدنا عمر، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہم کو حاصل ہے۔ یہی امت کا عقیدہ ہے۔ ترازو اٹھائے جانے کی بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک کا رنگ اس لیے بدلا کہ غالباً اس کے بعد فتنے سر اٹھانے والے تھے جیسا کہ بعدازاں اسی قسم کے سانحات رونما ہوئے۔ خواب میں شیطان کے کھیلنے کو نہ بتایا جائے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا حَلَمَ أَحَدُکُمْ فَلَا یُخْبِرِ النَّاسَ بِتَلَعُّبِ الشَّیْطَانِ بِہٖ فِي الْمَنَامِ)) ’’جب تم میں سے کوئی (بُرا) خواب دیکھے تو لوگوں کو نہ بتائے کہ شیطان خواب میں اس کے ساتھ کھیلتا رہا۔‘‘[2] برا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، اس لیے کوئی بھی بُرا خواب کسی کو بتانا نہیں چاہیے کیونکہ اس کی تعبیر بھی بری نکلے گی۔ نتیجہ بھی غلط اخذ ہوگا اور دیکھا ہوا بُرا خواب ہنسی [1] سنن أبي داود، حدیث: 4634۔ [2] سنن ابن ماجہ، حدیث: 2268۔