کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 103
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی خواب میں زیارت خواب میں آپ اپنے ساتھیوں کے کہنے پر آگے بڑھتے رہے، یہاں تک کہ آپ ایک سرسبز و شاداب باغ میں پہنچے۔ اس میں موسم بہار کے سب پھول تھے۔ باغ کے درمیان میں ایک اس قدر لمبا شخص تھا کہ اس کا سر دیکھنا دشوار تھا۔ وہ آسمان سے باتیں کرتا تھا۔ اس شخص کے چاروں طرف اتنے بچے تھے جتنے کبھی آپ نے دیکھے نہ تھے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید آگے گئے تو آپ کی ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی جن کا آدھا حصہ نہایت خوبصورت اور دوسرا آدھا نہایت بدصورت تھا۔ ان باتوں کی وضاحت آپ کے ساتھیوں نے یوں کی: ’’اورجو طویل القامت شخص آپ کو باغ میں نظرآئے تھے، وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور جو بچے ان کے چاروں طرف تھے، وہ بچے ہیں جو فطرت پر مرگئے تھے۔ بعض صحابہ نے سوال کیا: کیا ان میں مشرکین کے بچے بھی شامل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مشرکوں کے بچے بھی شامل ہیں۔ اب رہے وہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا بدصورت تھا، یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اچھے عمل بھی کیے اور بُرے بھی۔ اللہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔‘‘[1] سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تخصیص کی گئی کیونکہ وہ جدالانبیاء اور ابو المسلمین ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ یہ طویل حدیث لائے ہیں۔ اس میں عبرت بھری ڈرانے والی باتیں ہیں تاکہ ان سے بچا جائے۔یہ ساری حدیث بڑے ہی غور سے مطالعے کے قابل ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عزت و شہرت سے [1] صحیح البخاري، حدیث: 7047۔