کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 102
انھیں آگ کا عذاب اس لیے دیا جائے گا کہ ان کی جنسی ہوس کی آگ بجھتی نہیں تھی۔ مجموعی طور پر سزا اسی نوعیت کی ہوتی ہے جس نوعیت کاجرم ہوتا ہے۔ (ہذا ما عندي واللّٰہ أعلم بالصواب) سود خوروں کی سزا ’’اس خواب میں آپ کا گزر خون کی طرح سرخ نہر کے پاس سے ہوا جس میں ایک شخص تیر رہا تھا اور بار بار اس کے منہ میں پتھر ٹھونس دیا جاتا تھا، اس کے متعلق وضاحت کی گئی کہ یہ سود کھانے والا تھا۔‘‘[1] سود خور کو نہر میں تیرنے کی سزا دی جارہی تھی۔ وہ اپنے مال میں بڑھوتری چاہتا تھا تاکہ روپے پیسے کی ریل پیل ہو۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کا مال بڑھ رہا ہے، حالانکہ وہ گھٹ رہا تھا۔ اوراس کے منہ میں پتھراس لیے ٹھونساجاتا تھا کہ اسی منہ میں وہ حرام کے لقمے ڈالتا رہا، اب اُسے کھانے کو پتھر دیے جارہے تھے۔ہذا ما عندي واللّٰہ أعلم بالصواب۔ جہنم کے داروغے کی شکل ’’خواب میں آپ نے ایک انتہائی بدصورت شخص کو دیکھا جو جہنم کی آگ بھڑکا رہا تھا اور اس کے چاروں طرف چل رہا تھا۔ اس کے متعلق بتایا گیا کہ وہ جہنم کا داروغہ تھا جس کا نام مالک ہے۔‘‘[2] داروغے کی ڈراؤنی شکل اس لیے ہے تاکہ جہنمیوں کو ڈر اور خوف کا عذاب دے۔ یہ ڈر عذاب میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ [1] صحیح البخاري، حدیث: 7047۔ [2] صحیح البخاري، حدیث: 7047۔