کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 101
جھوٹی خبریں نشرکرنے کا انجام مذکورہ روایت کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس گئے جس کا جبڑا، ناک اور آنکھ، تینوں اعضاء اس کی گدی تک چیرے جا رہے تھے۔ اس شخص کے متعلق بتایا گیا کہ یہ وہ شخص ہے جو صبح گھر سے نکلتا تھا اور جھوٹی خبریں تراشتا تھا جو دنیا میں پھیل جاتی تھیں۔[1] اس حدیث میں جھوٹی خبر پھیلانے اورجھوٹا پروپیگنڈہ کرنے والوں کی سزا کا ذکر ہے۔ آنکھ، ناک اور زبان تینوں کو ایک جیسی سزا اس لیے دی جارہی تھی کہ وہ جھوٹی خبر سنانے میں ان تینوں اعضاء سے کام لیتا تھا۔[2] امام ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: خواب کے متعلق جھوٹ بولنے والے کی دنیا تباہ ہوگی۔ زانیوں کی سزا اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تنور میں برہنہ حالت میں مردوں اور عورتوں کو دیکھا تھا جن کے نیچے سے آگ کی لپٹ آتی تھی۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ’’وہ ننگے مرد اور عورتیں جو آپ نے تنور میں دیکھے وہ زنا کار مرد اور زناکار عورتیں تھیں۔‘‘[3] زانیوں کی سزا کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ وہ زناچھپ کر کرتے تھے تاکہ دوسروں سے پوشیدہ رہیں۔ قیامت کے دن یہ اپنے آپ کو ننگا دیکھیں گے اور کسی طرح چھپ نہیں سکیں گے۔ جن اعضاء سے یہ برائی کرتے تھے اس برائی کی سزا کے لیے ان کو نیچے سے عذاب دیا جائے گا۔[4] [1] صحیح البخاري، حدیث: 7047۔ [2] فتح الباري 12؍557۔ [3] صحیح البخاري، حدیث: 7047۔ [4] فتح الباري: 12؍557۔