کتاب: سچے خوابوں کے سنہرے واقعات - صفحہ 100
یَصِحَّ رَأْسُہُ کَمَا کَانَ، ثُمَّ یَعُودُ عَلَیْہِ فَیَفْعَلُ بِہٖ مِثْلَ مَا فَعَلَ مَرَّۃَ الأُْولٰی قَالَ: قُلْتُ لَہُمَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ مَا ہٰذَانِ؟ قَالَ: قَالَا لِي: اِنْطَلِقْ……)) ’’رات میرے پاس دو آنے والے آئے۔ انھوں نے مجھ سے کہا: چلیے! میں ان دونوں کے ساتھ چل پڑا، تو وہ ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس گئے۔ اس کے پاس ایک دوسرا شخص پتھر لیے کھڑا تھا۔ وہ اس کے سر پر پتھر مارتا تو اس کا سرپھٹ جاتا اور پتھر لڑھک کر دور جا گرتا۔ وہ شخص اس پتھر کے پیچھے جاتااور اُسے اٹھالاتا۔ اور اس لیٹے ہوئے شخص تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر اسی طرح ٹھیک ٹھاک ہوجاتا جیسا کہ پہلے تھا۔ کھڑا ہوا شخص پھر اس کے سر پر پتھر مارتا اور وہی صورت پیش آتی جو پہلے پیش آئی تھی۔ میں نے ان دونوں سے پوچھا: یہ دونوں کون ہیں؟ سبحان اللہ! مجھے لے جانے والے دونوں کہنے لگے: آیئے چلیے! (وہ دونوں آپ کو لے کر چل دیے اور آپ کو مختلف مناظر کا مشاہدہ کرایا۔ پھر انھوں نے آپ کو ان کی حقیقت حال بتائی اور کہا:) جس کا سر پتھر سے کُچلا جارہا تھا، یہ وہ شخص تھا جو قرآن سیکھتا تھا اور پھر اسے چھوڑ دیتا تھا اور فرض نماز چھوڑ کر سوجاتا تھا ۔‘‘[1] اس حدیث میں قرآن مجید کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ قرآن مجید یاد کرکے بھلانا نہیں چاہیے۔ چونکہ اس نے سب سے بڑی عظمت والی کتاب کو پس پشت ڈالا۔ اس لیے اس کے جسم میں سے عظمت والے حصے ’’سر‘‘ کو کچل دیا گیا۔[2] فرض نماز کا چھوڑنا بھی بہت بڑا جرم ہے۔ قرآن مجید اور فرض نمازکی طرف سے غفلت کی وجہ سے اسے سخت سزا دی گئی۔ فرض نمازوں میں قرآن مجید پڑھا جاتا ہے، وہ مضروب شخص اسے اہمیت نہیں دیتا تھا۔ [1] صحیح البخاري، حدیث: 7047۔ [2] فتح الباري: 12؍556۔