کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 72
حجِ بدل کی شرائط : سابقہ چاروں احادیث میں مذکورہ واقعات سے جہاں ’’حجِ بدل کے جواز ومشروعیت‘‘ کا پتہ چلتا ہے وہاں سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ مرد کے بدلے میں عورت اورعورت کے بدلے میں مرد بھی حج کرسکتا ہے ۔ کیونکہ پہلی حدیث والے واقعہ میں قبیلۂ بنو خثعم کی عورت اپنے باپ کی طرف سے حجِ بدل کی اجازت طلب کرتی ہے ۔ دوسری حدیث میں مذکور واقعہ ایک مرد سے تعلق رکھتا ہے جس نے اپنی ہمشیرہ کی طرف سے حجِ بدل کرنے کی اجازت چاہی ۔ تیسری حدیث میں ایک عورت اپنی ماں کی طرف سے حجِ بدل کرنے کی اجازت کی طلب گار ہے، اورچوتھی حدیث میں ایک مرد، کسی دوسرے مرد کی طرف سے حاضر ہوا ہے ۔ اورچاروں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرما دی۔ اگر چہ چوتھے کو حکم فرمایا کہ پہلے خود اپنی طرف سے حج کرنا۔ لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ ہرگز ضروری یا شرط نہیں ہے کہ مرد کی طرف سے صرف مرد ہی حجِ بدل کرے اورعورت کی طرف سے صرف عورت ۔ بلکہ حجِ بدل کی کل چارہی شکلیں ہوسکتی ہیں : 1۔مرد کی طرف سے عورت۔ 2۔عورت کی طرف سے مرد۔ 3۔عورت کی طرف سے عورت۔ 4۔مرد کی طرف سے مرد۔ یہ چاروں شکلیں ہی جائز اور ثابت ہیں۔ ان چاروں شکلوں میں سے پہلی دو کے بارے میں مرد وعورت کے احکامِ حج میں فرق ہونے کی بنا پر شبہ ہوسکتا تھا، جو اِن احادیث نے رفع کردیا ہے ۔ اور رئیس المحدثین حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے تو اپنی صحیح میں چند باب ہی اس طرح ذکر کیے ہیں: ’’بَابُ الْحَجِّ وَالنُّذُوْرِ عَنِ الْمَیِّتِ، وَالرَّجُلُ یَحُجُّ عَنِ الْمَرْأَۃِ‘‘