کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 54
اس ارشادِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ حج وعمرہ زندگی میں صرف ایک ہی مرتبہ فرض ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( اَلْعُمْرَۃُ اِلـٰی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَا بَیْنَھُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہٗ جَزَآئٌ الِاَّ الْجَنَّۃَ )) [1] ’’ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا تو صرف جنت ہی ہے ۔‘‘ اس حدیث کونقل کرتے ہوئے مفتی عالمِ اسلام سماحۃ الشیخ علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ (سابق وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی وڈائریکٹر جنرل اداراتِ بحوثِ علمیہ ودارالافتاء ودعوت وارشاد۔ سعودی عرب) نے لکھا ہے کہ نفلی حج وعمرہ میں کثرت مسنون ہے۔ (التحقیق والإیضاح لکثیر من مسائل الحج والعمرۃ والزیارۃ، ص: ۸، وفي الباب أحادیث أخریٰ، انظرھا في الفتح الربّاني للبنا: ۱۱/ ۸، ۹، ۱۰) صحیح ابن حبان، سنن بیہقی، مصنف عبدالرزاق، مسند ابی یعلی اورطبرانی اوسط میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیثِ قدسی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( یَقُوْلُ اللّٰہُ تعَالـٰی: اِنَّ عَبْداً صَحَّحْتُ لَہٗ جِسْمَہٗ، وَوَسَّعْتُ عَلَیْہِ فِی الْمَعِیْشَۃِ، تَمْضِيْ عَلَیْہِ خَمْسَۃُ اَعْوَامٍ، لَا یَفِدُ اِلَيَّ لَمَحْرُُوْمٌ )) [2] [1] اس کی تخریج نمبر (۵) میں گزرچکی ہے۔ [2] ابن حبان (۹۶۰) بیہقی (۵/ ۲۶۲) عبد الرزاق (۸۸۲۶) ابویعلی (۱۰۳۱) طبرانی ’’اوسط‘‘ (۴۹۰) میں، اسی طرح اس کو ابن عدی (۳/ ۹۳۳) فاکہی نے ’’اخبار مکہ‘‘ (۱/ ۴۳۶، ۴۳۷) میں، بیہقی نے ’’شعب الایمان‘‘ (۸/ ۷۲، ۷۳) میں اور خطیب نے بھی ’’تاریخ بغداد‘‘ (۸/ ۳۱۸) میں روایت کیا ہے۔ یہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اس کو عقیلی (۲/ ۲۰۶، ۲۰۷) ابن عدی (۴/ ۳۹۶) فاکہی، بیہقی اور خطیب نے ’’الموضح‘‘ (۱/ ۲۶۶، ۲۶۷) میں روایت کیا ہے۔ شیخ البانی نے اس کو ’’سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ‘‘ (۱۶۶۲) میں ذکر کیا ہے۔