کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 395
(( اَللّٰھُمَّ اِنِّيْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ )) [1] ’’اے اللہ! میں تیرے فضل وکرم کا طلب گار ہوں۔‘‘ مدینہ طیبہ سے نکلتے وقت کس راستے سے نکلناہے؟ اس کا کوئی ذکر وارد نہیں ہوا، اپنے مناسبِ حال کسی بھی راستے سے نکلیں اور واپسی کے وقت سفر اور سواری کی دعائیں کریں جنھیں ہم آغازِ کتاب میں’’آدابِ سفر‘‘ کے ضمن میں ذکر کر آئے ہیں۔ راستے میں قیام، شہروں کو دیکھنے اور دیگر مواقع کی دعائیں کرتے آئیں اور جب اپنا شہر نظر آجائے تو صحیح بخاری ومسلم اور مسند احمد میں مذکور یہ دعا کریں: (( آئِبُوْنَ، تَائِبُوْنَ، عَابِدُوْنَ، سَاجِدُوْنَ، لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ )) [2] ’’ہم تو تائب ہوکر سجدہ وعبادت گزاری کا عہد کرکے لوٹ آئے ہیں اور اپنے رب کی تعریفیں کرتے ہیں۔‘‘ جب اپنے شہر، قصبہ یا گاؤں پہنچیں تو گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنی مسجد میں جائیں اور دو رکعت نماز ادا کریں کیونکہ ابو داود میں مذکور ایک حدیث کی رُو سے یہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ [3] اور پھرجب اپنے گھر آئیں تو گھر میں داخل ہوتے ہی ابو داود میں مذکور یہ دعا کریں: (( اَللّٰھُمَّ اِنِّيْ أَسْئَلُکَ خَیْرَ الْمَوْلَجِ وَخَیْرَ الْمَخْرَجِ بِسْمِ اللّٰہِ [1] اس حدیث کی تخریج (۱۴۶) میں دیکھیں۔ [2] یہ دعا عبداللہ بن عمر اور انس کی حدیث میں ہے: ۱۔ حدیثِ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بخاری (۱۷۹۷، ۳۰۸۴) ’’الحج والجہاد‘‘ اور مسلم (۹/ ۱۱۱، ۱۱۳) وغیرہ نے روایت کیاہے۔ ۲۔ حدیثِ انس رضی اللہ عنہ کو بھی بخاری (۳۰۸۵، ۳۰۸۶) اور مسلم وغیرہ نے روایت کیا۔ [3] یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور اس کی سند حسن درجہ کی ہے۔ اس بارے میں دیگر احادیث بھی ہیں، ان کی تفصیل کے لیے نمبر (۴۶) دیکھیں۔