کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 381
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم قباء کی زیارت کے لیے کبھی پیدل اور کبھی سوار ہوکر جایاکرتے تھے (اور ایک روایت میں ہے:) وہاں دورکعتیں پڑھا کرتے تھے۔‘‘ 5۔ بقیع الغرقد: قیامِ مدینہ کے دوران مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پنجگانہ نمازِ باجماعت کی پابندی کریں اور مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی جنت البقیع ہے۔ اس کی زیارت کے لیے جائیں تو صحیح مسلم میں مذکور یہ دعا اہلِ بقیع کے لیے کریں: (( اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ، وَاٰتَاکُمْ مَا تُوْعَدُوْنَ غَداً مُّؤَجَّلُوْنَ، وَاِنَّا اِنْ شَآئَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِأَہْلِ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ )) [1] ’’اے مومن لوگو! تم پرسلامتی ہو اور تمھیں وہ مل گیاہے جس کا تم سے وعدہ تھا اور جب اللہ نے چاہا ہم بھی تم سے آملیں گے۔ اے اللہ! بقیع الغرقد کے آسودگان کی مغفرت فرما۔‘‘ اور صحیح مسلم کی ہی دوسری روایت میں ہے: (( اَلسَّلَامُ عَلٰی أَھْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَاخِرِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَآئَ اللّٰہُ بِکُمْ للَاَحِقُوْنَ )) [2] ’’ا ے اس شہرِ خاموشاں کے مومن ومسلمان باسیو! تم پر سلامتی ہو۔ [1] یہ دعا عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے اور اس کو مسلم (۷/ ۴۱) ’’الجنائز‘‘ نسائی نے ’’السنن‘‘ (۴/ ۹۴) ’’الجنائز‘‘ اور ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘ (۱۰۹۲) میں، ابن السنی (۵۹۷) اور بیہقی (۵/ ۲۴۹) نے روایت کیا ہے۔ [2] یہ دعا بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہی ہے اس کو بھی مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے۔