کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 325
تحلّلِ اول: ان امور کو انجام دینے کے بعد احرام کھول دیں اور خوشبو وغیرہ لگائیں کیونکہ صحیحین، سنن اربعہ اور موطأامام مالک میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: (( کُنْتُ أُطَیِّبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم لِاِحْرَامِِہٖ قَبْلَ أَنْ یُحْرِمَ، وَلِحِلِّہٖ قَبْلَ أَنْ یَّطُوْفَ )) [1] ’’میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور طوافِ اضافہ (طوافِ زیارت یا طوافِ حج) سے پہلے خوشبو لگایا کرتی تھی۔‘‘ اب صر ف بیوی سے ازدواجی تعلق کو چھوڑ کر باقی وہ تمام اشیاء حلال ہوگئیں جو احرام کی وجہ سے حرام تھیں مگر عورت سے تعلق صرف تب حلال ہوتا ہے جب طوافِ افاضہ بھی کر لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ طوافِ افاضہ سے پہلے والے اس احرام اتارنے کی حالت کو ’’تحلّلِ اول‘‘ کہا جاتا ہے اور طواف کرنے کے بعد بیوی سے تعلق بھی حلال ہو جاتا ہے لہٰذا اسے ’’تحلّلِ ثانی‘‘ یا ’’تحلّلِ کلّی‘‘ کہا جاتا ہے۔ طوافِ افاضہ یاطوافِ زیارت (طوافِ حج): یومِ نحر وقربانی (۱۰/ ذوالحج) کو جو چار کام کرنے ہوتے ہیں ان میں سے چوتھا اہم کام ’’طوافِ افاضہ‘‘ یا ’’طوافِ زیارت‘‘ ہے۔ یہ طواف، حج کا اہم رکن ہے، اسی لیے اسے ’’طوافِ حج‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوگا تو پھر حج ہی نہ ہوگا کیونکہ سورۂ حج میں ارشادِ الٰہی ہے: {وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ} [الحج : ۲۹] [1] ان الفاظ سے اس حدیث کو امام مالک (۱/ ۳۲۸) نے روایت کیا ہے اور امام مالک ہی کے طریق سے اس کو بخاری (۱۵۳۹) مسلم (۸/ ۹۹) ابو داود (۱۷۴۵) اور نسائی (۵/ ۱۳۷) نے روایت کیا ہے۔