کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 323
(( الَلّٰھُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ )) ’’اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما۔‘‘ اور چوتھی مرتبہ فرمایا: (( وَلِلْمُقَصِّرِیْنَ )) [1]’’اور بال کٹوانے والوں کی بھی۔‘‘ حجۃ الوداع کے موقع پر خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا سر منڈوانا صحیح بخاری ومسلم میں ثابت ہے، لہٰذا یہی افضل بھی ہے، جس کی تفصیل صحیح بخاری اور فتح الباری (۳/ ۵۶۱، ۵۶۶) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ حلق یا تقصیر کے وقت یہ بات پیشِ نظر رہے کہ بال کاٹنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے سر کی دائیں طرف سے بال کاٹے یا کٹوائے اور پھر بائیں طرف سے، جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (( أَنَّ النَّبِيَّ صلي اللّٰه عليه وسلم أَتٰـی مِنٰی، فَأَتٰی الْجَمْرَۃَ فَرَمَاھَا، ثُمَّ أتٰـی مَنْزِلَہٗ بِمِنٰی، وَنَحَرَ نُسُکَہٗ، ثُمَّ دَعَا بِالْحَلاَّقِ، َونَاوَلَ الْحَلاَّقَ شِقَّہٗ الْاَیْمَنَ، ثُمَّ دَعَا اَبَا طَلْحَۃَ الْاَنْصَارِيَّ، فَاَعْطَاہُ اِیَّاہُ، ثُمَّ نَاوَلَ الشِّقَّ الْاَیْسَرَ، فَقالَ: اِحْلِقْ، فَحَلَّقَہٗ، فَاَعْطَاہُ اَبَا طَلْحَۃَ فَقَالَ: اِقْسِمْہُ بَیْنَ النَّاسِ )) [2] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مزدلفہ سے) منیٰ آئے اورجمرۂ عقبہ پر رمی کی، پھر منیٰ میں اپنی [1] بخاری (۱۷۲۸) مسلم (۹/ ۵۱) ابن ماجہ (۳۰۴۳) اور بیہقی (۵/ ۱۳۴) یہ حدیث دیگر متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ [2] اس حدیث کو مسلم (۹/ ۵۳، ۵۴) اسی طرح ابو داود (۱۹۸۱، ۱۹۸۲) ترمذی (۹۱۲) ابن الجارود (۴۸۴) ابن خزیمہ (۲۹۲۸) حاکم (۱/ ۴۷۴) بیہقی (۵/ ۱۳۴) احمد (۳/ ۱۱۲، ۲۰۸، ۲۵۶) حمیدی (۱۲۲۰) اور ابن المنذر نے ’’الاوسط‘‘ (۲/ ۲۷۴، ۲۷۵) میں روایت کیا ہے۔