کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 315
رمی سے فارغ ہوجانے کے بعد اس جمرہ ٔ عقبہ کے پاس کھڑے ہوکر دعا کرنا ثابت نہیں ہے جیسا کہ مؤطاامام مالک میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں صحیح سند والے ایک موقوف اثر میں حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ دوسرے دونوں جمروں کے پاس تو کافی دیر کھڑے ہوکر اَللّٰہُ اَکْبَر، سُبْحَانَ اللّٰہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کاذکر کرتے اوراللہ سے دعائیں مانگتے تھے مگر جمرۂ عقبہ کے پاس کھڑے نہیں ہوا کرتے تھے۔[1] رمی کرتے وقت تمام کنکریاں ایک ایک کر کے مارنا ضروری ہے۔ اگر کسی نے مٹھی بھر کر ایک مرتبہ ہی ساری کنکریاں پھینک دیں تو اس کی رمی شمار نہیں ہوگی۔ (المغني: ۳/ ۳۸۶) صحیح بخاری و مسلم میں حضرت فضل بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے مروی ہے: (( لَمْ یَزَلْ یُلَبِّيْ حَتَّیٰ رَمَی الْجَمْرَۃَ )) [2] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرۂ عقبہ پر رمی کرلی۔‘‘ لہٰذا اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے یومِ نحر وقربانی کو رمی کے بعد تلبیہ کہنا بند کردینا چاہیے۔ [1] موطأ (۱/ ۴۰۷) وإسنادہ صحیح علی شر ط الشیخین۔ [2] ۱۔ حدیثُ الفضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بخاری (۱۵۴۳، ۱۶۸۵) مسلم (۹/ ۲۶، ۲۷) ابو داود (۱۸۱۵) ترمذی (۹۱۸) اور نسائی (۵/ ۲۶۸) وغیرہ نے روایت کیاہے۔ ۲۔ اور حدیثِ اسامہ بن زید کو بخاری (۱۵۴۳) وغیرہ نے روایت کیا ہے۔