کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 288
رکھے اس کے خلاف بھی ہماری مدد فرما اورکسی مصیبت کوہمارے دین پر مؤثر و نقصان دہ نہ بنا اوراس دنیا کو ہماری سوچ وفکر اورعلم وعقل کامحور ومرکز نہ بنا دے۔ اورہم پرکسی ایسے شخص کومسلّط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے۔‘‘ (ترمذی و حاکم ) (( لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السَّمَٰوَاتِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ )) [1] (بخاری و مسلم) ’’عظیم وحلیم اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ عرشِ عظیم کے رب کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ آسمانوں اور عرشِ کریم کے رب کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔‘‘ (( یَا حَيُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ )) [2] (ترمذی) ’’اے ہمیشہ زندہ وقائم رہنے والے! میں تیری رحمت کے ساتھ مدد طلب کرتا ہوں۔‘‘ (( اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ، فَلَا تَکِلْنِيْ اِلَی نَفْسِيْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ، وَاَصْلِحْ لِيْ شَأْنِي کُلَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ )) [3] (ابو داود) ’’اے اللہ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں، مجھے لمحہ بھر کے لیے بھی میرے نفس کے سپر دنہ کرنا، میرے تمام حالات کی اصلاح فرما، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔‘‘ [1] بخاری (۶۳۴۵، ۶۳۴۶) مسلم (۱۷/ ۴۷، ۴۸) [2] ترمذی (۳۵۲۴) ترمذی کی سند ضعیف ہے مگر اس کے بعض شواہد ہیں جن کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے۔ [3] ابو داود (۵۰۹۰) ’’کتاب الأدب، باب ما یقول إذا أصبح‘‘ یہ حسن درجہ کی حدیث ہے۔