کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 268
شام کی زردی زائل ہوگئی اورسورج کی ٹکیہ غائب ہوگئی۔‘‘ معلّم حضرات اوران کے ایجنٹ یہا ں بھی اپنی من مانی کرتے ہیں اورنمازِ عصر کے بعد ہی حاجیوں کو مزدلفہ پہنچانا شروع کر دیتے ہیں جوکہ صحیح نہیں اور آجکل ممکن بھی نہیں رہا۔ ویسے آجکل سرکاری اہلکار عرفات سے قبل از مغرب روانگی سے روکے رکھتے ہیں۔ طریقۂ وقوف: مسجد نَمرہ یا عرفات کی کسی بھی جگہ پر نمازِ ظہر وعصر قصر اورجمع تقدیم کرکے (نمازِ ظہر کے وقت دونوں نمازوں کو) پڑھیں، یہی مسنون طریقہ ہے جیساکہ تفصیل گزری ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’جبلِ رحمت‘‘ (عرفات میں موجود پہاڑی) کے دامن میں وقوف فرمایا تھا۔ جبلِ رحمت کے اوپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چڑھے بلکہ اس کے پاس ہی قبلہ رو ہوکر وقوف فرمایا، جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (( ثُمَّ رَکِبَ حَتَّـٰی أَتَـٰی الْمَوْقِفَ،فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِہٖ الْقَصْوَآئَ اِلَی الصَّخْرَاتِ، وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاۃِ بَیْنَ یَدَیْہِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ )) [1] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہوکر موقف(عرفات )تشریف لائے اور اپنی اونٹنی کا پیٹ (رخ) پہاڑی (جبلِ رحمت)کی چٹانوں کی طرف کر دیا اور لوگوں کے راستے کو اپنے سامنے رہنے دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہوگئے۔‘‘ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحب جائے وقوف یہی ہے اور یہ جو لوگوں میں مشہور ہے کہ جو شخص جبلِ رحمت پر نہ چڑھے اس کا وقوف صحیح نہیں، ان کی یہ بات سراسر غلط ہے۔ میدانِ عرفات کے ہر حصے میں وقوف صحیح ہے، البتہ اگر ان پہاڑی چٹانوں تک نہ پہنچ سکے جو کہ جبلِ رحمت کے دامن میں بچھی ہیں تو اس کے قریب تر ہونے کی کوشش کرے۔ (شرح صحیح مسلم: ۸/ ۱۸۵) [1] تخریج کے لیے نمبر (۱۹۳) دیکھیں۔