کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 211
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود سے لے کر حجرِ اسود تک کے تین چکر رمل چال سے اورچار عام چال سے پورے فرمائے۔‘‘ نیز حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے : (( أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم وَأَصْحَابَہٗ اِعْتَمَرُوْا مِنْ جِعِرَّانَۃَ فَرَمَلُوْا بِالْبَیْتِ ثَلَاثاً وَمَشَوْا أَرْبَعاً )) [1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے جعرانہ سے عمرہ کیا توبیت اللہ کے طواف کے دوران پہلے تین چکروں میں رمل اورآخری چار میں عام چال سے چلے۔‘‘ مشروعیتِ رمل کا سبب : صحیح بخاری ومسلم، سنن ابو داود ونسائی اورمسند احمد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمل کی مشروعیت اور اس کے مقرر کیے جانے کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ ۷ھ میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ وجانثار ساتھی عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ آئے تو مشرکینِ مکہ نے یہ کہنا شروع کردیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھی کمزور ہوگئے ہیں، مدینہ طیبہ کے بخار نے انھیں نحیف ونزار اورکمزور کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اس خیال فاسد سے باخبر کردیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم فرمایا کہ (پہلے تین چکروں میں) رمل چال سے چلیں۔ جب مشرکین نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس طرح چلتے دیکھا توآپس میں کہنے لگے: (( ھَؤُلَائِ الَّذِیْنَ تَزْعُمُوْنَ أَنَّ الْحُمّٰی وَھَنَتْھُمْ، ھَؤُلآئِ أَقْوَیٰ مِنْ کَذَا وَکَذَا )) ’’کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم یہ گمان کررہے تھے کہ بخار [1] أبو داود (۱۸۹۰) بإسناد صحیح۔