کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 197
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور صحیح مسلم، سنن نسائی و بیہقی اور مسند احمد میں حضرت سوید اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی احادیث میں طواف کا آغاز اسی طرح مذکور ہے ۔[1] [1] سوید بن غفلۃ کی حدیث میں حجرِ اسود کو بوسہ دینے اور اس سے چمٹ جانے کا، حدیثِ ابن عمر رضی اللہ عنہ میں اس کو چھونے اور بوسہ دینے کا اور حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما میں ’’اللہ اکبر‘‘ کہنے کا ذکر ہے۔ ۱۔ حدیثِ سوید کو مسلم (۹/ ۱۷) نسائی (۵/ ۲۲۷) بیہقی (۵/ ۷۴) طیالسی (۱/ ۲۱۶) احمد (۱/ ۵۴) ابو یعلی (۱۸۹) اور فاکہی نے ’’اخبار مکہ‘‘ (۱/ ۱۱۲) میں روایت کیا ہے۔ حدیثِ ابن عمر اور ابن عباس کی تخریج نمبر (۱۵۸، ۱۵۹) میں موجود آرہی ہے۔ اللہ اکبر سے پہلے ’’بسم اللہ‘‘ کہنے کا ذکر بعض مرفوع روایات میں ہے مگر یہ روایات صحیح نہیں ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہے کہ وہ ’’اللہ اکبر‘‘ سے پہلے ’’بسم اللہ‘‘ کہا کرتے تھے۔ اسی طرح یہ عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے مگر ان سے یہ صحیح ثابت نہیں۔ مرفوع روایات میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی موصول روایت اور ابن جریج کی معضل روایت ہے۔ ابن عمر کی روایت کو فاکہی نے ’’اخبارِ مکہ‘‘ (۱/ ۹۹) میں روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرِ اسود کا استلام کرتے وقت یہ کہاکرتے تھے: (( بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اِیْمَاناً بِاللّٰہِ وَتَصْدِیْقاً بِمَا جَائَ بِہٖ مُحَمَّدٌ صلی اللّٰه علیہ وسلم )) مگر اس کی سند سخت ضعیف ہے کیونکہ اس میں واقدی ہے اور یہ متروک ہے بلکہ اس پر احادیث وضع کرنے کی تہمت لگائی گئی ہے۔ ابن جریج کی روایت کو شافعی نے ’’الام‘‘ (۲/ ۱۷۰) میں روایت کیا ہے۔ اس میں ابن جریج کہتے ہیں کہ انھیں یہ خبر پہنچی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم حجرِ اسود کا استلام کرتے وقت کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہو: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اِیْمَاناً بِاللّٰہِ وَتَصْدِیْقاًبِمَاجَائَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ )) مگر یہ سند ضعیف ہے۔ اس کے بارے میں تفصیل کے لیے حدیـث نمبر (۱۴۸)کا آخر دیکھیں۔ ۲۔ اثرِ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو عبدالرزاق (۸۸۹۴، ۸۸۹۵) احمد (۲/ ۱۴) ازرقی نے ’’اخبار مکہ‘‘ (۱/ ۳۳۹) میں، فاکہی نے بھی ’’اخبارِ مکہ‘‘ (۱/ ۱۰۲، ۱۰۳) ہی میں، طبرانی نے ’’الدعا‘‘ (۸۶۳، ۸۶۲)میں اور بیہقی (۵/ ۷۹) نے روایت کیا ہے اور یہ ان سے صحیح ثابت ہے۔ ۳۔ اثرِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ازرقی (۱/ ۳۳۹) نے روایت کیا ہے۔ اس میں ’’بسم اللہ اللہ اکبر‘‘ کے بعد ایک طویل دعا بھی مذکور ہے مگر اس اثر کی سند ضعیف ہے۔