کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 177
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی عرفات میں اونٹنی سے گر کر وفات پانے والے شخص کی تکفین وتدفین کے سلسلہ میں (( لَا تُخَمِّرُوْا رَاْسَہٗ)) کے الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف سر کو ڈھکنے سے منع فرمایا گیا تھا اور اس میں چہرہ داخل نہیں ہے۔ لہٰذا جمہور کا مسلک یہی ہے کہ چہرے کو ڈھانپنے کی اجازت ہے۔ البتہ اس حدیث کی بعض روایات میں (( لَا تُخَمِّرُوْا وَجْھَہٗ )) کے الفاظ بھی آئے ہیں جن سے چہرے کو ڈھانپنے کی ممانعت کاحکم اخذ کیاگیا ہے لیکن فتح الباری (۴/ ۵۴) میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جمہور کی طرف سے لکھا ہے کہ اس روایت میں ’’چہرے ‘‘کے لفظ کے ثابت ہونے میں کلام کیاگیا ہے۔ ابن المنذر نے اسے صحیح قرار دینے میں تردّد سے کام لیا ہے اورامام بیہقی نے کہا ہے کہ اس روایت میں چہرے کا ذکر غریب ہے اور یہ بعض رواۃ کا وہم ہے۔ پھر ان اقوال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ سب محلِّ نظر ہیں اور یہ حدیث بظاہر صحیح ہے، بعد ازاں انھوں نے آگے مسلم ونسائی میں مذکور روایات ذکر کی ہیں۔ صاحبِ فتح الباری لکھتے ہیں کہ دراصل یہ روایت خوشبو لگانے سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ سر کو یا منہ کو ڈھانپنے یاکھلا رکھنے کے بارے میں ہے ۔ اہلِ علم میں سے علامہ ناصر الدین البانی نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے اس قول کو ’’عجیب ‘‘ قراردیا ہے اور’’چہرے ‘‘کے لفظ والے اضافے کو ثابت قراردیا ہے۔ (الإرواء: ۴/ ۲۰۰) اہلِ ظاہر کا کہنا ہے کہ دونوں طرح کے مواقع پر عمل کرنے کے لیے یوں کریں کہ اگر مُحرم زندہ ہو تو وہ چہرے کو ڈھانپ لے تو یہ جائز ہے، ہاں اگر کوئی احرام کی حالت میں ہی مرجائے تو اس کے منہ کو ننگا رکھا جائے۔ (فتح الباري: ۴/ ۵۴۔ ۵۵) امام نووی رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ مُحرم میت کے چہرے کو ڈھانپنے کی ممانعت اس بنا پر نہیں کہ وہ مُحرم ہے بلکہ یہ ممانعت اس بنا پر