کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 173
’’تمھارے لیے سمندری جانوروں کا شکار اور ان کا گوشت کھانا حلال کیاگیا ہے۔ یہ تمھارے اور دوسرے مسافروں کے فائدہ کے لیے ہے (وہاں بھی کھاؤ اور زادِ راہ بھی لے سکتے ہو) اور تم پرخشکی کا شکار حرام قرار دیا گیا ہے جب تک تم احرام کی حالت میں رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔‘‘ بلا قصد عورت سے چُھوجانا: بندہ احرام کی حالت میں دورانِ سفر یاخیمہ میں بیٹھتے اٹھتے بلاقصد اوربلا شہوت عورت سے چُھوجائے توامام نووی رحمہ اللہ کے بقول بلا اختلاف ا س میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (الفتح الرباني: ۱۱/ ۲۳۶) البتہ شہوت کے ساتھ چُھونا حرام ہے جس کی تفصیل ’’محرّماتِ احرام‘‘ میں گزرچکی ہے۔ موذی جانوروں کو مارنا: خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا حرم اور احرام میں حرام ہے لیکن اس کا یہ معنی ہرگز نہیں ہے کہ کسی بھی جانور کو کسی بھی حالت میں مار نہیں سکتے بلکہ موذی (تکلیف دہ اور ضرر رساں) جانوروں کو جان سے مار دینے کی اجازت ہے اور اس سے حرم شریف کے احترام اور احرام پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی اس پر کوئی کفارہ وفدیہ لازم آتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے اس پر تمام ائمہ کا اتفاق نقل کیا ہے۔ (بحوالہ الفتح الرباني: ۱۱/ ۲۷۵) اس عمل کے جواز کی دلیل متعدد صحیح احادیث ہیں جن میں سے ایک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح بخاری ومسلم، سنن ترمذی و نسائی و بیہقی اور مسند احمد میں مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے: