کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 127
’’جو بات مجھے بعدمیں معلوم ہوئی ہے وہ اگر پہلے معلوم ہوجاتی تواپنے ساتھ قربانی نہ لاتا۔‘‘ اورجن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس قربانی کے جانور بھی نہیں تھے اور انھوں نے حجِ قِران کی نیت سے احرام باندھ لیے تھے انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ وہ عمرہ کر کے احرام کھول دیں اورقِران کی نیت کو فسخ کرکے تمتُّع کی نیت کرلیں۔ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسے ہی کیا جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا )) [1] ’’ہم نے سمع وطاعت کا مظاہرہ کیا اور احرام کھول لیے۔‘‘ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کومشورہ سمجھتے ہوئے اپنے احرام نہیں کھولے تھے جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے، جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: (( قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم لِأَرْبعٍ مَضَیْنَ أَوْ خَمْسٍ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَھُوَ غَضْبَانُ، فقُلْتُ: مَنْ اَغْضَبَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! اَدْخَلُہٗ اللّٰہُ النَّارَ؟ قَالَ: اَوَ شَعَرْتِ، اَنِّيْ اَمَرْتُ النَّاسَ بَاَمْرٍ فَاِذَا ھُمْ یَتَرَدَّدُوْنَ، وَلَوْ اَنِّيْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ اَمْرِیْ مَا اسْتدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْھَدْيَ حَتّٰی حَلَلْتُ کَمَا حَلُّوْا)) [2] [1] یہ الفاظ مسلم (۸/ ۱۶۳) اور بیہقی (۴/ ۳۳۸) میں ہیں۔ [2] اس حدیث کو مسلم (۸/ ۱۵۴۔ ۱۵۵) اسی طرح ابن خزیمۃ (۲۶۰۶) بیہقی (۵/ ۱۹) طیالسی (۱/ ۲۱۸) اور احمد (۶/ ۱۷۵) نے روایت کیا ہے۔