کتاب: سوئے حرم حج و عمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل - صفحہ 119
کے لیے غسل کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔‘‘ ان احادیث اورمذکورہ باب سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حیض ونفاس والی عورتوں کو بھی احرام باندھنے سے پہلے غسل کرلینا چاہیے۔ امام شافعی، امام مالک، امام ابوحنیفہ اورجمہور اہلِ علم کے نزدیک حیض ونفاس والی عورت کا احرام کے لیے غسل کرنا مستحب ہے جبکہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور اہلِ ظاہر کے نزدیک واجب ہے۔ مگر اس سلسلے میں جمہور کامسلک ہی زیادہ صحیح ہے کہ یہ غسلِ احرام مسنون ومستحب ہے۔ عام حالات میں اگر کسی وجہ سے میقات پر کوئی مجبوری پیش آجائے اورغسل کرنا ممکن نہ ہو توبھی کوئی حرج نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: الفتح الرباني: ۱۱/ ۱۲۳۔ ۱۳۱) مردوں کاخوشبو لگانا: غسل سے فارغ ہوکر مردوں کے لیے بدن کو ہر قسم کی خوشبو لگانا جائز ہے، چاہے اس کا اثر بعد میں تادیر ہی کیوں نہ قائم رہے، کیونکہ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: (( کُنْتُ أُطَیِّبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم بِاَطْیَبَ مَا اَقْدِرُ عَلَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُّحْرِمَ ثُمَّ یُحْرِمُ )) [1] ’’میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسبِ مقدور سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی اور پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے۔‘‘ اور دوسری روایت میں ہے : (( طَیَّبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم لِحَرْمِہٖ حِیْنَ اَحْرَمَ، وَلِحلِّہٖ قَبْلَ اَنْ [1] اس حدیث کو بخاری (۵۹۲۸) ’’اللباس‘‘ مسلم (۸/ ۱۰۰) نسائی (۵/ ۱۳۸) اور دارمی (۲/ ۳۳) نے عثمان بن عروہ کے طریق سے اور عثمان نے اپنے باپ عروہ کے واسطے سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔