کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 94
تب بولا جاتا ہے جب آپ اس پر غمگین ہوں۔ممکن ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی اس سے بعینہٖ یہی مراد ہے،گویا انھوں نے کہا ہے:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیا،وہ تو صرف حزن و ملال تھا اور وہ مباح ہے،چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نہی سے معارض نہیں ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مرثیوں سے منع فرمایا ہے،جس میں میت کے ایسے اوصاف بیان کیے جاتے ہیں جو حزن و غم میں ہیجان پیدا کرتے ہیں اور غم و الم کو تازہ کرتے ہیں،چنانچہ امام احمد اور ابن ماجہ نے مندرجہ ذیل جس روایت کو بیان کیا اور امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے،اس سے یہی مراد ہے۔وہ حدیث عبداﷲ بن ابی روفی کے واسطے سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثیہ گوئی سے منع فرمایا ہے] پس محمد علی کو ایسے مرثیے تصنیف کرنے اور اس کو مجالس اہلِ تشیع میں پڑھنے سے توبہ کرنا لازم ہے اور محمد علی کو مجرد اس فعل سے رافضی کہنا جائز نہیں ہے۔محمد علی کا مرثیہ کے علاوہ اور شعر کہنا اگر حدِ شرع سے متجاوز نہیں ہے تو جائز ہے،ورنہ نہیں۔واللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین کیا پرانا نام رکھنے اور ختنہ نہ کرانے سے بندہ کافر و مشرک رہتا ہے؟ سوال:محب الفقرا جناب مولانا عبدالرحمان صاحب مبارکپوری! کیا ارشاد ہے جناب شریعت مآب کا اس مسئلے میں کہ ایک غیر مسلم شخص اﷲ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک لہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول برحق مانتا ہے اور تمام عقائد ایمانیہ اور ارکانِ اسلامیہ پر علانیہ یقین و عمل رکھتا ہے،مگر قدیمی نام اس نے نہیں بدلا نہ ختنہ کرایا۔ایسے شخص کو کافر و مشرک کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ مرسلہ:خواجہ حسن نظامی از دفتر اشاعت گاہ تصوف حلقۃ المشائخ درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا محبوب الٰہی دہلی ۲۰/ رمضان ۱۲۳۵ھ جواب:جبکہ وہ غیر مسلم شخص اﷲ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک لہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول برحق مانتا ہے اور ساتھ اس کے تمام عقائد ایمانیہ اور ارکان اسلامیہ پر علانیہ طور پر یقین اور یقین کے ساتھ عمل بھی رکھتا ہے تو ایسا شخص بلاشبہہ ہمارے نزدیک مسلم ہے۔رہی یہ بات کہ اُس نے قدیمی نام نہیں بدلا اور نہ ختنہ کرایا،سو اس سے وہ شخص کافر و مشرک نہیں ہوسکتا،پس ایسے شخص کو کافر و مشرک کہنا ہر گز جائز نہیں ہے۔ جنات کا تصرف اور کوہِ قاف کا ثبوت: سوال:ایک شخص کہتا ہے کہ جنات کو کسی قسم کا تصرف نہیں ہے،بلکہ وہ مانند انسان کے ہیں،نیز کہتا ہے کہ کوہِ قاف [1] فتاویٰ نذیریہ (۲/ ۳۵۳)