کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 92
سلیمان بن مینا سے بیان کیا ہے،وہ ایک آدمی سے اور وہ ابو سعید سے روایت کرتا ہے۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے:اگر اس میں مبہم آدمی نہ ہوتا تو وہ عمدہ اسناد ہوتی،لیکن یہ روایت امام طبرانی کے درج ذیل سند کے ساتھ بیان کرنے سے قوی ہو جاتی ہے:’’محمد بن اسماعیل الجعفري عن عبد اللّٰه بن سلمۃ الرافعي عن محمد بن عبد اللّٰه بن علي بن عبد الرحمان بن صعصعۃ عن أبیہ عن أبي سعید‘‘ اس میں راوی جعفری اور اس سے اوپر والے تمام راوی مدنی ہیں اور معروف ہیں،لیکن جعفری کو ابو حاتم نے اور اس کے شیخ کو ابو زرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ حافظ عراقی نے کہا ہے:اس کو امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی ابن المنکدر کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور فرمایا ہے:اس کی اسناد ضعیف ہے،بلاشبہہ یہ سند شرطِ مسلم پر وارد ہوئی ہے۔ابن عبد البر نے اس کو ’’الاستذکار‘‘ میں ابو الزبیر کے واسطے سے اس سے روایت کیا ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے کہا ہے:یہ اسانید اگرچہ ضعیف ہیں،مگر جب یہ ایک دوسری کے ساتھ مل جاتی ہیں تو قوت پیدا ہو جاتی ہے،باوجود اس کے کہ ان کے لیے ابو الزبیر کی جابر سے مروی روایت واقع نہیں ہوئی ہے جو اس حدیث کے طرق میں سب سے زیادہ صحیح طریق ہے،انھوں نے کہا:یہ عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ ا سے مروی حدیث سے وارد ہوئی ہے،جس کو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے افراد میں عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا ہے،ابن عبدالبر نے اس کو ایسی سند سے روایت کیا ہے جس کے سارے رجال ثقہ ہیں،لیکن یہ روایت ان سے ابن المسیب کے واسطے سے مروی ہے،جب کہ ان کے اس سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔امام بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان میں اس کو ابراہیم بن محمد بن منتشر کے واسطے سے بیان کیا ہے پھر اس کو ذکر فرمایا،نیز کہا:میں نے اس کے طرق کو ایک جز میں جمع کر دیا ہے،انتھیٰ کلام العراقي۔‘‘ واللّٰه تعالیٰ أعلم،وعلمہ أتم۔کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[1] سید محمد نذیر حسین بلا ثبوت کسی کو اہلِ سنت و الجماعت سے خارج کرنا درست نہیں: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ محمد علی ابتدائے عمر سے شعر گوئی کا شوق رکھتا ہے،نعت و منقبت بھی لکھتا ہے،مرثیہ تصنیف کرتا ہے اور پڑھتا ہے۔جن مجلسوں میں وہ مرثیہ پڑھتا ہے،وہ مجالس اہلِ تشیع کے یہاں ہوتی ہیں۔محمد علی ہمیشہ سنی حنفی المذہب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور نمازِ جمعہ و عیدین وغیرہ میں شریک اہلِ سنت و الجماعت رہتا ہے۔آیا اس کو رافضی کہہ سکتے ہیں یا نہیں اور اس کا حلف کے ساتھ یہ کہنا کہ میں [1] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۲۷۵)