کتاب: سلسلہ فتاوی علمائے اہل حدیث 3 مجموعہ فتاویٰ محدث العصر علامہ محمد عبد الرحمن مبارکپوری - صفحہ 89
وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ )) [1] رواہ أحمد و أبو داود والترمذي وابن ماجہ،کذا في المشکاۃ في باب الاعتصام،وأیضاً قال صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( شَرُّ الأُمُوْرِ مُحْدَثَاتَُھَا،وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ )) [2] رواہ مسلم،کذا في الباب المذکور،وقد صنف علماء أھل الحدیث في الرد علیٰ ھذہ المجالس والإنکار علیھا رسائل عدیدۃ،فمن شاء الاطلاع علیٰ ھذہ المسألۃ مع ما لھا وما علیھا فلیطالع تلک الرسائل،واللّٰه تعالیٰ أعلم۔ [مجالسِ میلاد بدعت ہیں۔اس کا صغریٰ ہونا تو ظاہر ہے،کیوں کہ یہ مجالس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کے زمانے میں نہیں ہوتی تھیں۔اس کے علاوہ ان میں اور بھی بہت سی برائیاں اور مفاسد موجود ہیں،جن کو قرآن،سنت،اجماعِ صحابہ اور قیاسِ صحیح سے استنباط نہیں کیا جا سکتا تو یہ نیا کام ٹھہرا اور کبریٰ یوں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نئے کاموں سے بچو کہ وہ بدعت ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے اور یہ بھی فرمایا:بدترین کام نئے ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔لہٰذا یہ بھی گمراہی ہے،علمائے حدیث نے اس کی تردید میں بہت سے رسائل تصنیف کیے ہیں،اگر اس کی پوری تفصیل مطلوب ہو تو ان کا مطالعہ کریں۔واللّٰه أعلم۔ کتبہ:محمد عبد الرحمن المبارکفوري،عفا اللّٰه عنہ۔[3] سید محمد نذیر حسین کیا برائے تجارت و تبلیغِ اسلام میلوں اور عرسوں میں جانا جائز ہے یا نہیں ؟ سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ برائے تجارت و تبلیغِ اسلام میلوں اور عرسوں میں جانا جائز ہے یا نہیں ؟ بعض علما اس حدیث (( لِکُلِّ امْرِئٍ مَا نَویٰ )) کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بازارِ عکاظ میں جانے کے لحاظ سے اسے جائز فرماتے ہیں اور بعض تکثیرِ سواد کے لحاظ سے مانع ہیں۔آپ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں آیا جائز ہے یا ناجائز؟ قادر بخش و محمد علی دکاندار از ضلع منٹگمری موضع بچیدہ ڈاکخانہ جوچک جواب:میرے نزدیک میلوں اور عرسوں میں تجارت کے لیے جانا ہرگز جائز نہیں ہے۔مسلمان تاجروں کو ایسے شرکیات و بدعیات سے بالکلیہ احتراز و اجتناب لازم ہے۔جو علما حدیث (( لِکُلِّ امْرِئٍ مَا نَویٰ )) [4] سے یا [1] مسند أحمد (۴/ ۱۲۶) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۶۰۷) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۶۷۶) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۴۶) مشکاۃ المصابیح (۱/ ۳۶) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۶۷) [3] فتاویٰ نذیریہ (۱/ ۲۲۱) [4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۹۰۷)